\متفرق فتاوى جات\فتاوی جات

نومولود بچی کا سر مونڈھنا

نومولود بچی کا سر مونڈھنا
almosleh.com/index-ur-show-45454.html

نومولود بچی کا سر مونڈھنا
مشاهدات : 353

الجمعة 27 جمادى الأولى 1438 هـ - الجمعة 24 فبراير 2017 م

محترم جناب السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ کیا لڑکے کی طرح ،ولادت کے بعد لڑکی کا سر مونڈھنا بھی مشروع ہے؟

حلق شعر الأنثى عند ولادتها

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

اما بعد۔۔۔

اس معاملے میں علما ء کا اختلاف ہے ۔ مالکیہ اور شافعیہ کے نزدیک بچے کی طرح بچی کا حلق کرنا بھی سنت ہے، امام مالک ؒ نے جعفر بن محمد عن ابیہ کے طریق سے مرسل روایت کیا ہے فرمایا: ’’حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ نے حسن ، حسین ، زینب ، اور ام کلثوم کے بالوں کا وزن کیا پھر اس وزن کے بقدر چاندی صدقہ کر دی‘‘۔ اور چونکہ لڑکا اور لڑکی کے حلق کرنے میں علت ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ ایسا کرنا تکلیف دور کرنے کی قبیل سے ہے۔ لہٰذا بخاری میں سلمان بن عامر الضبی سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ کو یہ کہتے سنا: ’’لڑکے (کی پیدائش ) پر عقیقہ ہے لہٰذا ایک دم اس کی طرف سے ادا کرو اور اس سے تکلیف دور کرو‘‘۔ اور تکلیف دور کرنے میں مولود کے بال حلق کرنا بھی داخل ہے جیسا کہ اہل علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے۔

اور حنابلہ کا مذہب یہ ہے کہ بچی کے بال مونڈھنا مشروع نہیں کیونکہ جو نہی وارد ہوئی ہے وہ عمومی ہے۔ ابوداؤد نے ابن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’ عورتوں پر حلق نہیں بلکہ ان کے لئے تقصیر (یعنی بال چھوٹے کرانا) ہے‘‘۔ اور یہ کہ جن احادیث میں حلق کا ذکر آیا ہے وہ لڑکے کے ساتھ خاص ہے لہٰذا انہی عورتوں کی جنس کے لئے عام ہی رہے گی۔

اور جو راجح معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ نومولود بچی کے بال مونڈھنا جائز ہے اگر کسی مصلحت کے تحت ہو یعنی فائدہ کے لئے ہو ۔ کیونکہ بعض نے مشروعیت ذکر کی ہے لہٰذا اس کو لیا جا سکتا ہے ۔ اور جہاں تک حلق کو ناجائز کہنے والوں کے استدلال کا تعلق ہے تو اس بارے میں جو حدیث وارد ہوئی ہے وہ ضعیف ہے اور اگر اس کو صحیح بھی مان لیا جائے تو بھی مشروعیت کے لئے تخصیص کرنا ٹھیک ہوگا۔ واللہ اعلم

آپ کا بھائی

أ.د. خالد المصلح

26 /11 /1428هـ

کومنٹ بوکس
کومنٹس
کومنٹ کا اضافہ کیجۓ
نام :
ایمیل:
کومنٹ :
تحقيق کرنے والا کوڈ لکھے
3490
فیس بوک کومنٹس