×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / عورت کی شرمگاہ سے (حمل کے ایام میں )خارج ہونے والے پانی سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں ؟

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

شرمگاہ سے جو پانی خارج ہوتاہے ۔جس کا میں ابھی علاج بھی کررہی ہوں کیا اس سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں ؟ الإفرازات المهبلية هل تنقض الوضوء أم لا؟

المشاهدات:2799

شرمگاہ سے جو پانی خارج ہوتاہے ۔جس کا میں ابھی علاج بھی کررہی ہوں کیا اس سے وضو ٹوٹتا ہے یا نہیں ؟

الإفرازات المهبلية هل تنقض الوضوء أم لا؟

الجواب

حامداََ ومصلیاََ

امابعد

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ اگر خارج ہونے والا پانی اسی طرح ہو جس طرح طبعی پانی ہوتاہے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گااور یہ نجس نہیں ہے اور اگر وہ خون ہو تو اس سے وضو بھی ٹوٹے گا اور کپڑوں کو لگے تو اس کو دھونا واجب ہوگا۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

11/11/1424هـ


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات133499 )
5. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات67185 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات66482 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات57902 )
12. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات56678 )
13. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56677 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات54282 )
15. حكم استعمال الفكس للصائم ( عدد المشاهدات47605 )

التعليقات


×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف