×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / سانپ کو مارنے سے پہلے متنبہ کرنا

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

محترم جناب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔ آپﷺسے یہ مروی ہے کہ کہ سانپوں کو مارنے سے پہلے تین مرتبہ انہیں متنبہ کیا جائے تو اس تنبیہ کرنے کے کیا الفاظ ہیں ؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دے التحريج على الحيات

المشاهدات:5054

محترم جناب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔ آپﷺسے یہ مروی ہے کہ کہ سانپوں کو مارنے سے پہلے تین مرتبہ انہیں متنبہ کیا جائے تو اس تنبیہ کرنے کے کیا الفاظ ہیں ؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دے

التحريج على الحيات

الجواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاتہ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

جواب ملاحظہ فرمائیں

احادیث صحیحہ میں اس تنبیہ کے آپسے کوئی متعین الفاظ مروی نہیں ہیں ، صحیح مسلم میں (۲۷۳۶) میں ابوسعید خدریؓ سے حدیث مروی ہے کہ :’’ان گھروں میں کچھ باسی رہائش پزیر ہوتے ہیں ، پس اگر تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو تین مرتبہ اسے تنبیہ کرو ‘‘ اور ایک روایت میں ہے ’’تو اسے خبردار کرو‘‘۔ اور خبردار کرنے کا مطلب بلند آواز میں خبرد ینا ہے۔  

اور جہاں تک ابوداؤد کی حدیث ( ۵۲۶۰) کا تعلق ہے جو کہ عبدالرحمان بن ابی لیلی عن ابیہ عن رسول اللہ کے طریق سے مروی ہے کہ رسول اللہ سے گھروں میں رہنے والے سانپوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپنے ارشادفرمایا:’’ اگر تم ان میں سے کسی کو اپنے گھروں میں دیکھو تو یہ کہو : میں تمہیں واسطہ دیتا ہوں اس وعدے کا جو تم سے نوح ؑ نے کیا ، میں تمہیں واسطہ دیتا ہوں اس عہد کا جو تم سے سلیمان ؑ نے لیا کہ تم ہمیں تکلیف نہیں پہنچاؤ گے ، پس اگر وہ واپس لوٹیں تو انہیں قتل کردو‘‘ تو یہ حدیث مرسل ہونے کی وجہ سے اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے ، محمد بن ابی لیلی نے اس کے روایت کرنے والوں میں سے ایک صاحب کی تضعیف کی ہے ۔ لیکن اگر کوئی کہہ بھی دیتا ہے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ تنبیہ کے معنی پائے جارہے ہیں ۔ لہٰذا اس بناء پر یہ کہا جائے گا کہ ہر وہ لفظ جس سے تنبیہ حاصل ہو اس سے حدیث کا مقصود حاصل ہوجائے گا ۔

امام مالک ؒ سے تنبیہ کرنے کے الفاظ کے بارے میں یہ مروی ہے کہ یہ کہنا ہی کافی ہے : میں تمہیں اللہ اور روزِ قیامت کا واسطہ دے کر تنبیہ کرتا ہوں کہ تم نہ ہمارے سامنے آؤ اور نہ ہمیں تکلیف پہنچاؤ‘‘ ممکن ہے کہ انہوں نے ابو سعید خدریؓ والی حدیث سے ہی یہ الفاظ اخیتار کئے ہوں ۔

 باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔

آپ کا بھائی

أ.د. خالد المصلح

27 / 1 /1429هـ


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات135644 )
6. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات67900 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات67372 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات58516 )
12. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات57587 )
13. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56917 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات55034 )
15. حكم قص الشعر عند وفاة قريب ( عدد المشاهدات48105 )

مواد ذات صلة