×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / کیا مکہ کو دارالکفر کہنا ممکن ہے؟

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

کیا یہ ممکن ہے کہ مکہ کو دارالکفر کہا جائے اگر کفار یا مرتدین اس پر قبضہ کر لیں اور اپنا حکم جاری کر دیں؛ جیسا کہ قرامطہ وغیرہ؟ هل من الممكن تسمية مكة دار كفر؟

المشاهدات:2325

کیا یہ ممکن ہے کہ مکہ کو دارالکفر کہا جائے اگر کفار یا مرتدین اس پر قبضہ کر لیں اور اپنا حکم جاری کر دیں؛ جیسا کہ قرامطہ وغیرہ؟

هل من الممكن تسمية مكة دار كفر؟

الجواب

حامداََومصلیاََ۔۔۔

امابعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

جب سے رسول اللہ نے مکہ فتح کیا ہے اللہ تعالی نے اسے شرف بخشا ہے، یہ دار الاسلام ہے اور اللہ تعالی نے اسے کفار کے ہاتھوں سے محفوظ فرمایا ہے، اور جہاں تک قرامطہ کا اس کی حرمت کو نقصان پہنچانا ہے اور اس میں فساد مچانا، حجاج کو قتل کرنا اور وہاں دفن کرنے کا تعلق ہے تو یہ ایک عارضی امر ہے جو کچھ دن رہا پھر اللہ تعالی نے حرم کو اس مصیبت سے نجات دلا دی اور مسلمانوں کو عافیت بخشی،مگر اس صورت میں بھی اس کا دارلاسلام ہونے کا وصف ختم نہیں ہوا۔

بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے، اگرچہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ یہ دارالاسلام ہی رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالی پتلی پنڈلی والے کے ہاتھوں کعبہ کو زمین بوس کرنے کا ارادہ فرما لے اور یہ ان حالات میں ہو گا جب زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہیں ہو گا جیسا کہ صحیح مسلم میں (۱۴۸) حضرت انسؓ کی مرفوع حدیث میں ہے: (قیامت کسی ایسے شخص پر قائم نہیں ہو گی جو اللہ اللہ کہتا ہو)۔ واللہ اعلم

آپ کا بھائی

خالد المصلح

10/02/1425هـ


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات135665 )
6. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات67907 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات67381 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات58519 )
12. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات57593 )
13. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56920 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات55042 )
15. حكم قص الشعر عند وفاة قريب ( عدد المشاهدات48109 )

مواد ذات صلة