×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا حکم

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

اگر میت پر روز ے ثابت ہو جائیں تو کیا میت کی طرف سے اس کے ولی روزہ رکھ سکتے ہیں یا میت کے رشتہ دار آپس میں وہ روزے تقسیم کرسکتے ہیں؟ ثبت على الميت الصوم فهل يصوم عنه وليه أو يتقاسم أقاربه الصيام

المشاهدات:2359

اگر میت پر روز ے ثابت ہو جائیں تو کیا میت کی طرف سے اس کے ولی روزہ رکھ سکتے ہیں یا میت کے رشتہ دار آپس میں وہ روزے تقسیم کرسکتے ہیں؟

ثبت على الميت الصوم فهل يصوم عنه وليه أو يتقاسم أقاربه الصيام

الجواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الٰہی آ پ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

ولی ہی رشتہ دار ہوتاہے اور یہ بیٹا، بھائی، بہن اور باپ کو شامل ہے ، اور یہ ممکن ہے کہ وہ آپس میں روزے تقسیم کریں ، سوائے ان روزوں کے جن میں پے درپے روزے رکھنے ہوں جیسا کہ دو ماہ کے لگاتار روزے ، اس صورت میں وہ آپس میں روزے تقسیم نہیں کرسکتے ، اس لئے کہ اس طرح کرنے سے وہ تتابع فوت ہوجائے گی ، اور اگر رمضان یا اس طرح کے اور روزے ہوں تو پھر آپس میں دنوں کو تقسیم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔

اور اہلِ علم کی ایک جماعت کا تتابع کے بارے میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اگر ایک شخص پے درپے ایک مہینہ روزے رکھ لے اور پھر دوسرا شخص پے درپے ایک مہینہ روزے رکھ لے تو اس طرح بھی جائز ہے اس لئے کہ دوماہ کے روزے لگاتار دو شخصوں سے حاصل ہوگئے ۔


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات135596 )
6. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات67865 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات67336 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات58501 )
12. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات57554 )
13. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56904 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات55006 )
15. حكم قص الشعر عند وفاة قريب ( عدد المشاهدات48082 )

مواد ذات صلة