×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / بغیر کسی عذر کے روزوں کی قضاء میں سستی کرنا

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

بغیر کسی عذر کے روزوں کی قضاء میں سستی کرنے کا کیا حکم ہے؟ تكاسل عن قضاء الصيام بغير عذر

المشاهدات:2423

بغیر کسی عذر کے روزوں کی قضاء میں سستی کرنے کا کیا حکم ہے؟

تكاسل عن قضاء الصيام بغير عذر

الجواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

ایسی عورت پر واجب تو یہ ہے کہ جو اس کے روزے رہ گئے ان کی قضاء کرے، اگر اس نے ایک سال روزے نہ رکھے ہوں، یعنی رمضان تو آیا مگر اس نے روزے نہیں رکھے تو جمہور علماء کا کہنا ہے کہ اس پر اب روزے رکھنے کے ساتھ ساتھ کھانا کھلانا بھی واجب ہے کیونکہ صحابہؓ سے ایسے ہی مروی ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کا کہنا یہ ہے کہ اب صرف روزے قضاء کرنا ہی واجب ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اسی کو واجب کیا ہے، فرمان باری تعالی ہے: ((پھر بھی گر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے)) [البقرہ:۱۸۴]  یہاں اللہ نے اطعام کا ذکر نہیں کیا لہذا اطعام واجب نہیں ہے، اور جو صحابہ کے بارے میں مروی ہے وہ استحباب پر محمول ہے نہ کہ وجوب پر، اور یہی امام ابو حنیفہ کا قول ہے کہ اس پر صرف روزے ہی واجب ہیں زیادہ اقرب اور صحیح معلوم ہوتا ہے، واللہ اعلم۔

لہذا یہ عورت روزے قضاء کرے گی اور اگر کھانا بھی کھلانا چاہے تو بھی اچھی بات ہے لیکن یہ لازم اور واجب نہیں


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات135596 )
6. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات67865 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات67336 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات58501 )
12. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات57554 )
13. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56904 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات55005 )
15. حكم قص الشعر عند وفاة قريب ( عدد المشاهدات48082 )

مواد ذات صلة