×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / موت کی تیاری میں کفن تیار رکھنا

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

موت کی تیاری میں کفن تیار کر رکھنے کا کیا حکم ہے؟ تجهيز الكفن استعدادا للموت

المشاهدات:2625

موت کی تیاری میں کفن تیار کر رکھنے کا کیا حکم ہے؟

تجهيز الكفن استعداداً للموت

الجواب

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہیں۔

موت کہ تیاری جو کہ نبی ﷺنے اور سلف صالح نے کر رکھی تھی وہ اعمال صالحہ تھے جو کہ موت کے بعد بھی انسان کے ساتھ ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ((ہر نفس اپنی کسب کے حوالے ہے)) [المدثر:۳۸] یعنی اپنے کئے کا قیدی ہے، اور بخاری (۶۵۱۴) اور مسلم (۲۹۶۰) میں سفیان بن عیینہ عن عبد اللہ بن ابو بکر عن انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: "تین چیزیں میت کا تعاقب کرتی ہیں دو لوٹ آتی ہیں اور ایک باقی رہ جاتی ہے: اس کے اہل اس کا مال اور اس کا عمل اس کے پیچھے جاتے ہیں تو اس کے اہل اور مال واپس آجاتے ہیں اور اس کا عمل رہ جاتا ہے" اور جہاں تک کفن اور دیگر حاجات کا تعلق ہے تو اس کو تیار کر رکھنے میں کوئی حرج نہیں بعض سلف نے ایسا کیا لیکن یہ نہیں ہونا چاہئیے کہ مقصد اعلی یہی ہو یا اس میں کسی دوسرے کی حق تلفی ہو۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

10/04/1425هـ


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات135967 )
6. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات68020 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات67521 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات58591 )
12. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات57735 )
13. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56967 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات55155 )
15. حكم قص الشعر عند وفاة قريب ( عدد المشاهدات48204 )

مواد تم زيارتها

التعليقات


×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف