×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / قرضداروں کو زکوٰۃ دینے کا حکم

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

قرضداروں کو زکوٰۃ دینے کا کیا حکم ہے؟ حكم إعطاء الزكاة للغارمين

المشاهدات:2061

قرضداروں کو زکوٰۃ دینے کا کیا حکم ہے؟

حكم إعطاء الزكاة للغارمين

الجواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

قرضداروں کو زکوٰۃ دینا جائز ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشادگرامی ہے: ﴿بے شک زکوٰۃ فقراء ، مساکین ، زکوٰۃ پر کام کرنے والوں ، نئے اسلام لانے والوں کی دلجوئی ، غلاموں اور قرضداروں کے لئے ہے ……الخ﴾ {التوبۃ: ۶۰} اور غارمین سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر قرضہ ہوتا ہے ، لہٰذا قرضدار کو زکوٰۃ دینا جائز ہے تاکہ وہ اس سے اپنا قرضہ چُکائے ، اگر اس کے پاس اور مال بھی ہو جس سے وہ اپنی ضروریات پوری کرسکتا ہے پھر بھی ان کو زکوٰۃ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات133042 )
5. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات66916 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات66243 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات57760 )
12. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56575 )
13. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات56394 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات53991 )
15. حكم قص الشعر عند وفاة قريب ( عدد المشاهدات47399 )

مواد تم زيارتها

التعليقات


×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف