×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / بانڈز کو بازار میں فروخت کرنا

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

محترم جناب حضرت السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، بانڈز کا بازار میں فروخت کرنے میں اپ کیا فرماتے ہیں؟ التورق في الأسهم

المشاهدات:2038

محترم جناب حضرت السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، بانڈز کا بازار میں فروخت کرنے میں اپ کیا فرماتے ہیں؟

التورُّق في الأسهم

الجواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

و علیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ،

 اس مسئلہ کے بارے میں بہت زیادہ پوچھا جاتا ہے ، کہ ادمی بنک جاتا ہے اور بنک سے بازار میں فروخت کرنے کے لیے کچھ بانڈز خریدتا ہے، اور پھر اس کو فروخت کرنے س  جو مال اسے ملتا ہے یہ اس سے منتفع ہوتا ہے ۔ اور یہ تین شرطوں کے ساتھ جائز ہے:

۱۔  کہ بنک بذات خود ان بانڈز کا مالک ہو ، پس اگر بوقت معاملہ بنک بانڈز کا مالک نہ ہو تو بنک غیر مملوکہ چیز کو فروخت کرنے والا ہوگا ، اور یہ جائز نہیں ہے ۔

۲۔  یہ بانڈز بھی جائز بانڈز ہو، جیسے کے سروسز والی کمپنیاں ہوتی ہے یا اسکے علاوہ اور کوئی ۔

۳۔  کہ خریدار اسے بنک کی جانب سے فروخت نہ کرے ، کیونکہ یہ عینہ ہے ۔ اور بنک کو اسے فروخت  کرنے  کے لیے وکیل بھی نہ بنائے۔ کیونکہ اگر بنک کو فروخت کرنے کے لیے وکیل بنائے گا تو یے ربا کا ایک حیلہ ہوجائے گا۔

پس اگر بانڈز فروخت کرتے وقت یہ تینوں شروط موجود ہو تو پھر یہ معاملہ جائز ہے ۔ واللہ اعلم۔

آپ کا بھائی/

أ.د.خالد المصلح

5 / 3 / 1430هـ


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات135637 )
6. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات67896 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات67371 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات58515 )
12. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات57583 )
13. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56916 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات55030 )
15. حكم قص الشعر عند وفاة قريب ( عدد المشاهدات48103 )

مواد ذات صلة