×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

نموذج طلب الفتوى

لم تنقل الارقام بشكل صحيح

/ / بانڈز کو بازار میں فروخت کرنا

مشاركة هذه الفقرة WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

محترم جناب حضرت السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، بانڈز کا بازار میں فروخت کرنے میں اپ کیا فرماتے ہیں؟ التورق في الأسهم

المشاهدات:1984

محترم جناب حضرت السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، بانڈز کا بازار میں فروخت کرنے میں اپ کیا فرماتے ہیں؟

التورُّق في الأسهم

الجواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

و علیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ،

 اس مسئلہ کے بارے میں بہت زیادہ پوچھا جاتا ہے ، کہ ادمی بنک جاتا ہے اور بنک سے بازار میں فروخت کرنے کے لیے کچھ بانڈز خریدتا ہے، اور پھر اس کو فروخت کرنے س  جو مال اسے ملتا ہے یہ اس سے منتفع ہوتا ہے ۔ اور یہ تین شرطوں کے ساتھ جائز ہے:

۱۔  کہ بنک بذات خود ان بانڈز کا مالک ہو ، پس اگر بوقت معاملہ بنک بانڈز کا مالک نہ ہو تو بنک غیر مملوکہ چیز کو فروخت کرنے والا ہوگا ، اور یہ جائز نہیں ہے ۔

۲۔  یہ بانڈز بھی جائز بانڈز ہو، جیسے کے سروسز والی کمپنیاں ہوتی ہے یا اسکے علاوہ اور کوئی ۔

۳۔  کہ خریدار اسے بنک کی جانب سے فروخت نہ کرے ، کیونکہ یہ عینہ ہے ۔ اور بنک کو اسے فروخت  کرنے  کے لیے وکیل بھی نہ بنائے۔ کیونکہ اگر بنک کو فروخت کرنے کے لیے وکیل بنائے گا تو یے ربا کا ایک حیلہ ہوجائے گا۔

پس اگر بانڈز فروخت کرتے وقت یہ تینوں شروط موجود ہو تو پھر یہ معاملہ جائز ہے ۔ واللہ اعلم۔

آپ کا بھائی/

أ.د.خالد المصلح

5 / 3 / 1430هـ


الاكثر مشاهدة

1. جماع الزوجة في الحمام ( عدد المشاهدات133488 )
5. حكم قراءة مواضيع جنسية ( عدد المشاهدات67181 )
8. مداعبة أرداف الزوجة ( عدد المشاهدات66458 )
11. حکم نزدیکی با همسر از راه مقعد؛ ( عدد المشاهدات57909 )
12. لذت جویی از باسن همسر؛ ( عدد المشاهدات56680 )
13. ما الفرق بين محرَّم ولا يجوز؟ ( عدد المشاهدات56673 )
14. الزواج من متحول جنسيًّا ( عدد المشاهدات54304 )
15. حكم استعمال الفكس للصائم ( عدد المشاهدات47625 )

مواد تم زيارتها

التعليقات


×

هل ترغب فعلا بحذف المواد التي تمت زيارتها ؟؟

نعم؛ حذف