×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / نکاح / رضاعی ماں کا شوہر کیا میری بیوی کے لۓ محرم شمار ہوگا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-09-06 09:35 AM | مناظر:2316
- Aa +

میں نے ایک عورت کا دودھ پیا ہے جس کی وجہ سے وہ میری رضاعی ماں بن گئی ہے (اب سوال یہ ہے کہ) جس عورت کا میں نے دودھ پیا ہے اس کے شوہر کے لۓ میری بیوی اور میری اولاد محرم ہیں؟ براے مہربانی مجھے اس سوال کا جواب ممنون فرمائیں ، شکریہ!

زوج الأم من الرضاعة هل يعد محرما لزوجتي

جواب

جی ہاں! جمہور علماء کا یہ مشترکہ فیصلہ ہے کہ ہر وہ رشتہ جو ازدوجی قرابت سے حرام ہوتا ہے وہ رضاعت سے بھی حرام ہو جاتا ہے (یہی اکثر علماء کا فیصلہ ہے) لیکن بعض علماء جیسے امام ابن تیمیہ رح اور امام ابن قیم رح نے نسب کو محرمیت کا سب قرار دیا ہے اور دلیل میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پیش کرتے ہیں کہ "نسب سے جو رشتہ حرام ہوتا ہے وہ رضاعت سے بھی حرام ہوتا ہے" اور یہاں صہریت کو ذکر نہیں کیا گیا لیکن بہر کیف اصل و راجح قول وہی ہے جس پر جمہور علماء کا اجماع ہے لہذا آپکی زوجہ محترمہ کے لۓ اگر کوئی (گناہ) کا اندیشہ نہ ہو تو آپ کے رضاعی باپ سے پردہ نہ کرنا جائز ہے اور کوئی اندیشہ ہو تو پھر پردہ کرنا واجب ہے۔


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں