×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / نکاح / منگيتر کا بوسہ لینے کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-09-18 01:34 PM | مناظر:2956
- Aa +

میرے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا کہ میں اپنی منگیتر(جس کے ساتھ میرا عقدِ نکاح نہیں ہوا بلکہ صرف فاتحہ پڑھ کر گواہوں کے ذریعہ میری منگنی ہوئی ہے) کے ساتھ اس کے گھر میں تنہائی میں ملا اور اس کا ایک لمبا بوسہ لیا ، لہٰذا میں نے بغیرعقدِ زواج کے اس کا جو بوسہ لیا ہے اس کا کفارہ کس طرح ادا کروں ؟ اور میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر میں عقدِ زواج کے بعد اس سے اس طرح بوسہ لے لوں تو پھر کیا حکم ہے؟ جبکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ ایک سال تک اپنے ماں باپ کے گھر رہے (یعنی منگنی کے عرصے میں عقدِ زواج کے ساتھ ایک سال کی مدت کے لئے ) کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟

قبلت خطيبتي .. فما الحكم؟

جواب

حامدا و مصلیا

امابعد۔

عقدِنکاح کے بغیر آپ کا اپنی منگیتر کے ساتھ خلوت نشین ہونا اور اس کا چھونا جائز نہیں ہے اس لئے کہ وہ آ پ کے لئے اجنبی ہے لہٰذا میں آپ کو اللہ سے ڈراتا ہوں کہ آپ اس سے دوری اختیار کریں تاکہ آپ دوبارہ پہلے کی طرح بوس وکنار میں واقع نہ ہوں، اور آ پ کو چاہئے کہ آپ نمازِ تہجد کی کثرت کریں کیونکہ آپکے پاس ایک آدمی آیااور عرض کیا یا رسول اللہ! ’’میں نے مدینہ سے باہر ایک عورت کے ساتھ چھیڑ خوانی کی ‘‘ اور ایک روایت میں ہے کہ اس آدمی نے کہا کہ ’’ میں نے اس کا بوسہ لیااور یہ میں نے اس کو چھوئے بغیر کیا لہٰذا آ پ میرے بارے میں جیسا بھی فیصلہ کریں میں حاضر ہوں ‘‘  تو (یہ سن کر) حضرت عمرؓ فرمانے لگے کہ ’’ اللہ تعالیٰ نے آ پ کے ساتھ ستاری کا معاملہ کیا کاش تم خود بھی اپنی ستر پوشی کرلیتے‘‘راوی کہتا ہے کہ آپنے کچھ جواب نہیں دیاتو وہ آدمی اٹھ کر چلا گیا، آپنے اس کے پیچھے ایک دوسرے آدمی کو بھیجا کہ اسے بلاؤ، (جب وہ آیا) تو اللہ کے رسول نے اس کے سامنے یہ آیت پڑھ کر سنائی:  ﴿و أقم الصلاہ طرفَی النھار و زلفا من اللیل ان الحسنات یذھبن السئیات ذلک ذکری للذاکرین﴾  (ترجمہ)  ’’اور دن کے دونوں سروں پرنماز قائم کر اور ات کے کچھ حصہ میں بھی بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے‘‘  (ھود :۱۱۴)  تو ایک عرض کرنے لگا : اے اللہ کے رسول! کیا یہ صرف اس کے لئے خاص ہے ؟ آپنے جواب میں ارشاد فرمایا:  ’’نہیں ، بلکہ تمام لوگوں کے لئے ‘‘(رواہ البخاری ومسلم میں حدیث ابی ھریرۃؓ واللفظ للمسلم) اور رہی بات عقدِ زواج کے بعد بوسہ لینے کی تو اس صورت میں وہ آپ کی بیوی ہے آپ اس کا بوسہ بھی لے سکتے ہیں اور اس سے استمتاع بھی حاصل کرسکتے ہیں اگرچہ یہ سب اعلانِ نکاح سے پہلے ہو۔ واللہ أعلم بالصواب

آپکا بھائی

خالد المصلح

18 /10 /1424 هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں