×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / نکاح / منگنی کے بعد منگیتراور اس کے شوہر کے درمیان جنسی تعلقات کی کیاحد ہے ؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-09-18 01:43 PM | مناظر:2483
- Aa +

میں شادی کی طرف متوجہ ہوں اور نکاح بھی ہوگیا ہے تو اب میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ میرے اور میرے منگیتر کے درمیان جنسی تعلقات کی کیاحد ہے ؟ اور دوعورتوں کے آپس میں کیا ستر ہے ؟ اور چھلّہ کی مشروعیت اور اس کا حکم کیا ہے ؟ میرا ایک آخری سوال رہ گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ : میری ایک سہیلی ہے جس کی اپنے خالہ زادسے منگنی ہوگئی ہے اور اب وہ ایک ملک میں ہے اور اس کا منگیتر دوسرے ملک میں ، وہ دونوں ہر چیز پر متفق ہیں لیکن ابھی تک ان کا نکاح نہیں ہوا جبکہ ایجاب و قبول ہوگیا ہے اور وہ دونوں اس انتظار میں ہیں کہ اس کی حکومت اس بات کی اجازت دے اس لئے کہ اس کے پاس اس ملک کی نیشنلٹی ہے لہٰذا اس کا اپنے منگیتر کے ساتھ بات کرنے کے کیاحدود ہیں ؟ اور کیا اس کو شوہر کی طرح سمجھا جائے گا جبکہ دونوں کا نکاح ابھی نہیں ہوا؟

حدود العلاقة بين الخطيب وخطيبته بعد عقد القران؟

جواب

حامدا و مصلیا

امابعد۔

-۱

  اگر اس نے تمہارے ساتھ عقدِ نکاح کرلیا ہے تو وہ تمہارا شوہر ہے اور فی الحال تمہارا شوہر کو منگیتر نہیں کہا جائے گا، اور رہی بات آپ دونوں کے درمیان جنسی تعلق کی تو اس بات میں عرفِ جاری ہے کہ آدمی عورت کے پاس شبِ زفاف سے پہلے کلّی طور پر نہیں جاسکتا، اس لئے میری رائے ہے کہ آپ اس کو جماع کی قدرت نہ دیں اوررہی بات شبِ زفاف سے پہلے بوس کنار کی تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔

-۲

  عورت پر واجب ہے کہ اس سے وہ ظاہر نہ ہو جو باوقار و باحیاء اور پاکدامن عورتیں اجنبی عورتوں کے سامنے ظاہر نہیں کرتیں

-۳

  چھلّے کے ساتھ اگر یہ اعتقاد شامل نہ ہو کہ اس کا اتارنا فسادِ زندگی یا طلاق کا سبب بنے گا تو پھر یہ خاوند کی طرف سے بیوی کے لئے ایک تحفہ ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔

-۴

  پہلے سوال کے جواب میں اس کا جواب گزر چکا ہے ۔

-۵

  آپ کی سہیلی کے لئے اس کا منگیتر اجنبی ہے لہٰذا اس کے لئے اپنے منگیتر کے ساتھ خلوت نشین ہونا ، فون پر بات کرنا اورخط وکتابت کرنا جائز نہیں ہے ۔

آپکا بھائی

خالد المصلح

08/11/1424هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں