×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / نکاح / شوہر نماز نہیں پڑھتا اس سے حمل کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-10-17 06:39 PM | مناظر:3145
- Aa +

اس نے مجھ سے شادی کی اور مجھے پتہ نہ تھا کہ وہ نماز نہیں پڑھتا اور اب میں اس سے حاملہ بھی ہوں ، حمل ٹھہرنے کے بعد بڑی نصیحتیں کرکرکے اس نے نماز پڑھنا شروع کردی ، کیا میں اس کے ساتھ رہوں اور وہ میرا اب بھی شوہر ہے اور اس موجودہ حمل کا کیا حکم ہے؟

زوجي لا يصلي فما حكم الحمل؟

جواب

حامداََ ومصلیاََ۔۔۔

امابعد۔۔۔

نکاح کا عقد بھی صحیح ہے اور حمل بھی عقدِ نکاح میں ہی ہوا ہے کفر کا حکم ترکِ صلوٰۃ پر ثابت نہیں ہوتا جب تک اس کے چھوڑنے والے پر کوئی حجت قائم نہ ہو اور حاکم اس کو طلب کرے اور اس سے توبہ طلب کرے ۔ واللہ أعلم۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

17/02/1425هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں