×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / التفسير / قرآنی سورتوں کو لٹکانے کا کیا حکم ہے ؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-11-25 09:27 AM | مناظر:1864
- Aa +

گھر میں برکت کے لئے قرآن کی سورتوں کو لٹکانے کا کیا حکم ہے؟

حكم تعليق سور القرآن

جواب

حامداََ ومصلیاََ

امابعد

جواب ملاحظہ ہو

قرآنی آیات یا سورتوں کو برکت کی غرض سے لٹکانا جائز نہیں بلکہ یہ بدعت ہے اور ان تعویذوں کو جن حفاظت کی غرض سے لٹکانے سے بھی منع کیا گیا ہے اس میں یہ بھی داخل ہوگا کیونکہ ایسے تعویذوں سے منع کیا گیا ہے اور یہ سورتوں کو لٹکانا بھی اسی معنی میں ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ تعویذ بچوں کے گلے میں یاجارنوں پر لٹکائے جاتے ہیں محض مصیبت سے بچنے کے لئے اور یہ شرک کے ان وسائل اور اسباب میں سے ہے جو آخرکار شرک ہی کی طرف لے جاتے ہیں ۔ٍاحمد ، ابوداؤد وغیرھا نے ابن مسعود کی حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا:’’دم ، تعویذ  اور تولۃ شرک ہے ‘‘ اور اگر ان آیا ت سور کا لٹکانا نصیحت حاصل کرنے اور عبرت کے لئے ہو تو یہ بھی ایسے عمل میں شامل ہے جس کی نظیر خیر القرون میں نہیں ملتی، اور خیر سلف کی اتباع میں ہی ہے اور ہر شر آنے والوں کی بدعات میں ہے۔

والله أعلم.

آپ کا بھائی

خالد المصلح

13/11/1424هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں