×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / نماز / ہم نے سجدہ چھوڑدیاکیا ہماری نماز درست ہے؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-01-10 02:47 PM | مناظر:2848
- Aa +

میں نے ایک امام ِ مسجد کے پیچھے نماز پڑھی جب انہوں نے ایک رکعت میں سجدہ کیا تو فوراََ کھڑے ہوگئے اوردونوں سجدوں کے درمیان جلسہ نہیں کیا اور اسی طرح دوسرا سجدہ نہیں کیا ، سیدھا کھڑے ہونے کے بعد انہیں سبحان اللہ کہہ کر لقمہ بھی دیا گیالیکن انہوں نے دوسرا سجدہ کئے بغیر نماز کو برقرار رکھااور پھر سجدۂ سہوکیا تو ہماری نماز درست ہے؟

تركنا سجدة فهل صلاتنا صحيحة

جواب

علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ سجدہ نما ز کے ان ارکان میں سے ہے جس کے بغیر نماز درست نہیں ہوتی ، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : (ترجمہ) ’’اے ایمان والو!  تم رکوع اور سجدہ کرو‘‘۔(الحج:۷۷) اس کے علاوہ اور بھی نصوص اس پر دال ہیں۔ اگر کسی نے بھولے سے سجدہ ترک کردیا توجب تک سجدہ ادا نہ کرے اس کی نماز درست نہیں ہوگی ، لہٰذا آپ کے پوچھے گئے مسئلہ کے مطابق نما ز درست نہیں ہے اور اس کا اعادہ اب واجب ہے ۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

17/09/1424هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں