×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / الحديث / آپﷺ کی اجازت سے حضرت عائشہ ؓ کے دودھ پلانے والی حدیث

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-01-15 11:45 AM | مناظر:3130
- Aa +

ہمارے ہاں مصر میں ایک بے پرکی اڑی ہے کہ سیدہ عائشہؓ نے آپﷺ کی اجازت سے اپنے خادم کو دودھ پلایاتھا

حديث إرضاع عائشة بإذن النبي

جواب

 

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کا جواب یہ دیتے ہیں:

یہ قصہ درست نہیں ہے اور یہ کہیں وارد نہیں ہوا بلکہ یہ حضرت سالمؓ جو ابو حذیفہ ؓ کے غلام تھے ان کا قصہ ہے جو کہ کچھ اس طرح ہے کہ حضرت سالمؓ حضرت ابوحذیفہ ؓ کے غلام تھے اور انہوں نے حضرت سالمؓ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھااور یہ اس سے پہلے کی بات ہے جب اللہ تعالیٰ نے منہ بولا بیٹا بنانے سے منع نہیں فرمایا تھاکہ( ان کو ان کے باپوں سے منسوب کرو یہی اللہ کے ہاں سب سے زیادہ عدل والی بات ہے ) حضرت ابو حذیفہ ؓ کی بیوی خدمت اقدس میں آکر عرض پرداز ہوئی کہ اے اللہ کے رسول ! سالم اب سنِ بلوغ کو پہنچ گیا ہے اور وہ اب ایک خردمند و عاقل آدمی ہے اب جب وہ میر ے پاس آتا ہے تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ ابوحذیفہ کے دل میں یہ بات کھٹکتی ہے ۔ (یہ سن کر) آپنے ارشاد فرمایا : تم اسے دودھ پلاؤ تو تم اس پر حرام ہوجاؤگی اور اس طرح ابو حذیفہ کے دل میں آئی ہوئی بات بھی رفو چکر ہوجائے گی ، اس حدیث کو امام بخاریؒ نے(۵۰۸۸)میں اور امام مسلمؒ نے (۱۴۵۳)میں قاسم بن محمد کے طریق سے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ پس اس طرح حضرت عائشہ ؓ اس حدیث کی راوی ہوگئی نہ کہ یہ قصہ ان کے متعلق ہے اہلِ علم میں سے ایک جماعت نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ بڑے آدمی کو دودھ پلانا حرام ہے یہ ظاہریہ میں سے ابن حزم کا مذہب ہے، اور فقہاء میں سے ایک جماعت جن میں جمہور علماء اور باقی فقہاء اور محدثین بھی ہیں ان کا مذہب یہ ہے کہ بڑے آدمی کو بھی دودھ پلانا حرام نہیں ہے اور اس حدیث میں جو قصہ مذکور ہے وہ ایک خاص حالت کے ساتھ مخصوص ہے جس کی وجہ سے اللہ کے رسولنے حضرت سالمؓ حضرت ابو حذیفہؓ کے غلام کو اجازت مرحمت فرمائی اور اہلِ علم رضاعِ محرم کی اس چیز کے ساتھ حدبندی کی ہے جو بچپنے میں ہو لیکن مدتِ مؤثر ہ کی تحدید میں ان کا اختلاف ہے ۔


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں