×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / الحديث / اللہ تعالیٰ کے فرمان (ولقد علمنا المستقدمین) کے شانِ نزول کے متعلق کلام

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-01-27 12:33 PM | مناظر:3108
- Aa +

امام نسائی کی روایت کردہ حدیث کا کیا حکم ہے جس میں یہ ہے کہ بعض لوگ مسجد نبوی میں آخری صفوں کی طرف کھسک رہے تھے تا کہ وہ وہاں نماز پڑھنے والی ایک حسین عورت کو دیکھیں جس پر یہ آیت بھی نازل ہوئی: ولقد علمنا المستقدمین ( تم میں سے آگے جو نکل گئے ہیں ان کو بھی ہم جانتے ہیں) ؟؟

الكلام حول سبب نزول قوله تعالى ( ولقد علمنا المستقدمين..) الآية

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اس حدیث کو امام احمد،  امام ترمذی،  امام نسائی اور امام ماجہؒ نے نوح بن قیس ،  عمر و بن مالک اور ابو الجوزاء کے طریق سے حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ:  ’’ایک حسین و جمیل عورت آپکے پیچھے نماز پڑھ رہی تھی تو بعض لوگ صف میں آگے بڑھنے لگے تا کہ اس عورت پر نظر نہ پڑے اور بعض لوگ پیچھے ہونے لگے تا کہ وہ آخری صف میں آجائے جب اس طرح وہ رکوع کرتے تو بغل کے نیچے اس عورت کی طرف دیکھتے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : تم میں سے آگے جو نکل گئے ہیں ان کو بھی ہم جانتے ہیں اور جو پیچھے رہ گئے ہیں ان سے بھی ہم واقف ہیں  (الحجر:  ۲۴)  امام ترمذیؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو جعفر بن سلمان نے عمر وبن مالک کے طریق سے ابو الجوزاء سے روایت کی ہے ۔لیکن اس میں ابن عباس کو ذکر نہیں کیا اور یہ اس کے زیادہ مشابہ ہے کہ یہ نوح کے أصح احادیث میں سے ہو اور ابن کثیر نے بھی اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ یہ ایک انتہائی غریب حدیث ہے اور انہوں نے اس کے بارے میں یہ بھی فرمایا ہے کہ اس حدیث میں شدید نکارت ہے اور عبد الرزاق نے بھی اس حدیث کو اپنے مصنف میں جعفر بن سلمان کے طریق سے عمر و بن مالک سے روایت کی ہے کہ انہوں نے ابو الجوزاء سے سماع کیا ہے اور اس طرح پوری حدیث نقل کی ہے۔  لہٰذا ظاہر یہی ہے کہ یہ ابو الجوزاء کا اپنا کلام ہے اس لئے کہ اس میں ابن عباسؓ کا ذکر نہیں ہے اور امام بخاریؒ نے بھی ابو الجوزاء کے بارے میں فرمایا ہے کہ ان کی روایت کردہ حدیث کی سند زیرِ غور ہے،  اس لئے یہ خبر صحیح نہیں ہے


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں