×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / متفرق فتاوى جات / اگر انسان گھر میں داخل ہو اور کوئی موجود نہ ہو تو کیا وہ خود کو سلام کرے گا؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-02-15 01:05 PM | مناظر:2342
- Aa +

محترم جناب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔ اگر انسان گھر میں داخل ہو اور کوئی موجود نہ ہو تو کیا اس کے لئے ضروری ہے کہ خود کو سلام کرے؟

هل يسلم الإنسان على نفسه إذا دخل بيتًا ليس فيه أحد؟

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

اما بعد۔۔۔

سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص گھر میں داخل ہو جہاں کوئی موجود نہ ہو تو اس کو چاہئے یہ کلمات کہے: ’’السلام علینا و علی عباداللہ الصالحین‘‘۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اگر تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے آپ کو سلام کرو، یہ تحیہ ہے اللہ کی طرف سے جو مبارک بھی ہے پاکیزہ بھی‘‘۔(النور:۶۱)۔ اور یہ قول ابن عمرؓ، ابن عباسؓ، مجاھدؒ، عطاءؒ، اور امام زھریؒ سے مروی ہے۔

اور اہلِ علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم میں سے بعض ، بعض کو سلام کریں یعنی ایک دوسرے کو سلام کرو۔ اور اگر اس معنی پر محمول کیا جائے تو اس میں سلام کی مشروعیت پر دلیل نہیں جب انسان خالی گھر میں داخل ہو۔ کیونکہ وہاں کوئی موجود نہیں جس کو سلام کیا جائے۔ جیسا کہ مالکی فقہاء میں سے ابوبکر بن عربی نے ذکر کیا ہے، اور یہی زیادہ بہتر ہے۔ واللہ اعلم

آپ کا بھائی

أ.د.خالد المصلح

29 /11 /1428هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں