×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / متفرق فتاوى جات / ارادۃ شرعیۃ سے مراد

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-02-15 01:20 PM | مناظر:1642
- Aa +

محترم جناب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔ یہ بات تو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ارادہ بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارادہ دو قسم کا ہے: ارادہ کونیہ اور ارادہ شرعیہ ۔ تو کیایہ ارادہ شرعیہ صرف مکلف افراد سے تعلق رکھتا ہے؟

متعلق الإرادة الشرعية

جواب

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

اما بعد۔۔۔

اس لفظ میں اجمال ہے تو اگر آپ کی مراد ثواب یا عقاب ہے تو صحیح ہے اور اگر آپ کا مقصود حکم شرعی کا لاگو ہونا ہے تو حکم شرعی تو مکلف افراد پر بھی لاگو ہوتا ہے اور دیگر پر بھی اور اس بات پر یہ حدیث دلالت کر تی ہے جو کہ امام احمدؒ نے (۶۶۵۰) اور ابو داؤد نے (۴۰۱۵) عمرو بن شعیب سے نقل کی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کا ہو جائے‘‘۔ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ارادہ شرعیہ غیر مکلف افراد کے فعل سے بھی تعلق رکھتا ہے اور جو میں نصیحت کروں گا تو وہ یہ کہ اس طرح کے مجمل الفاظ میں اطلاق سے اجتناب کیا جائے۔ واللہ اعلم

آپ کا بھائی

أ.د. خالد المصلح

9/ 11/ 1428هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں