×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / متفرق فتاوى جات / اسقاطِ حمل کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-02-20 03:01 PM | مناظر:2659
- Aa +

محترم جناب السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ارادی طور پر اسقاطِ حمل کا کیا حکم ہے؟ اس بات کو مدّنظر رکھتے ہوئے کہ یہ اسقاط حیض کے منتظر وقت کے گزرنے کے سات دن بعد واقع ہوا ہو

حكم الإجهاض

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

اما بعد۔۔۔

آپ کے اوپر واجب ہے کہ اس غیر مولود پر کئے گئے جرم سے توبہ کریں کیونکہ آپ نے جو کیا ہے بالکل حرام اور حد سے گزرا ہوا فعل ہے۔ اب اگر ساقط ہونے والے میں انسان کی تخلیقی صورت ظاہر ہو چکی تھی تو آپ پر اس کے ورثاء کے لئے جن میں آپ یا اس کے والد شامل نہ ہو اس کی دیت ہے۔ اور دیت غلام یا باندی کی قیمت کے بقدر ہوتی ہے اور اندازے کے مطابق اس کی دیت عورت کی دیت کا دسواں حصہ بنتی ہے جوکہ ہمارے ہاں سعودیہ میں ۵۰۰۰ سعودی ریال کے برابر ہے۔

بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ اسقاط والد کے اجازت سے ہو تو کوئی دیت نہیں بنتی کیونکہ حمل ساقط کرنے اور جرم میں سے موافقت کرنے کی وجہ سے ورثاء کا حق ساقط ہوچکا ہے ۔ یہ قول بھی بعید از صحت نہیں ہے اور یہ قول بعض حنفی فقہاء نے یہ ذکر کیا ہے جیسا کہ فتاوی ھندیہ (۳۵/۶) میں ہے۔ واللہ اعلم

آپ کا بھائی

أ.د. خالد المصلح

7/ 6 /1426 هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں