×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / متفرق فتاوى جات / کسی شخص کا قول یا فعل اس کی غیر موجودگی میں ذکر کرنا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-02-20 03:07 PM | مناظر:1990
- Aa +

محترم جناب السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ہم مدرسہ کی طالبات ہیں اور اپنی استانیوں کا بہت احترام کرتی ہیں اور اللہ کے لئے ان سے محبت رکھتی ہیں، لیکن کبھی کبھار ہم ان کی نقل اتارتی ہیں جبکہ ہمارا مقصد مذاق اڑانا بالکل نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف مزاح اور ان سے محبت کی وجہ سے ہوتا ہے تو کیا یہ غیبت میں شمار ہوگا؟

حكاية قول شخص أو فعله في غيبته

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

اما بعد۔۔۔

کسی شخص کی بات یا ہیئت کی نقل اتارنا اگر کسی مصلحت کی بناء پر ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ بخاری (۳۴۷۷) اور مسلم(۱۷۹۲) نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ’’گویا میں نبی کی طرف دیکھ رہا ہوں اور وہ انبیاء میں سے ایک نبی کی نقل اتار رہے ہیں ، وہ نبی جن کو ان کی قوم نے مارا حتی کہ وہ جان دے بیٹھے ، اس حالت میں کہ وہ اپنے چہرے سے خون صاف کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے: اے اللہ ! میری قوم کی بخشش فرما دے چونکہ وہ علم نہیں رکھتے‘‘۔ اور اسی طرح بعض صحابہ ؓ نے آپ کی قرأت کی نقل اتاری۔ جیسا کہ عبداللہ بن مغفل نے آپ کی سورۃ الفتح کی قرأت کی نقل اتاری جیسا کی بخاری (۷۵۴۱) میں مروی ہے اور نقل سے مراد یہاں یہ ہے کہ کسی فعل کی صورت میں یا کسی قول کے وصف میں نقل اتاری جائے۔

اور اگر کسی شخص کے قول یا فعل یا اس کی صورت بنا کر نقل اسی لئے اتاری جائے کہ ہنسنا ہنسانا مقصود ہو تو یہ جائز نہیں ہے کیونکہ یہ باعث تکلیف اور مذاق اڑانے کی صورتیں ہیں۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اے ایمان والو! کوئی جماعت کسی دوسری جماعت (قوم) کا مذاق نہ اڑائے ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہو اور نہ ہی عورتیں دوسری عورتوں کا (مذاق اڑائیں) ممکن ہے کہ وہ ان سے بہتر ہو‘‘۔ (الحجرات: ۱۱)۔ اور نبی نے فرمایا: ’’کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہیں‘‘۔ رواہ البخاری (۱۰) و المسلم (۴۰)۔ اس حدیث کو عبداللہ بن عمر ؓ نے روایت کیا ہے ۔ اور اہل علم کی ایک جماعت نے تو نقل اتارنے کو بھی غیبت میں شمار کیا ہے جیسا کی صاحب کتاب ’الزواجر عن اقتراف الکبائر‘ (۳۴/۲) اور صاحب کتاب ’کشاف القناع‘ (۴۲۳/۶) نے ذکر کیا ہے۔ کیونکہ یہ آپ کے اس قول میں داخل ہے، فرمایا: ’’کیا تمہیں پتہ ہے غیبت کیا ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا: تمہارے اپنے بھائی کا ایسا ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو‘‘۔ یہ روایت مسلم (۲۵۸۹) نے ابو ہرہ ؓ سے نقل کی ہے۔

آپ کا بھائی

أ.د. خالد المصلح

 30 /12 /1425هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں