×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / متفرق فتاوى جات / سانپ کو مارنے سے پہلے متنبہ کرنا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-03-01 12:08 PM | مناظر:4327
- Aa +

محترم جناب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔ آپﷺسے یہ مروی ہے کہ کہ سانپوں کو مارنے سے پہلے تین مرتبہ انہیں متنبہ کیا جائے تو اس تنبیہ کرنے کے کیا الفاظ ہیں ؟ اللہ آپ کو جزائے خیر دے

التحريج على الحيات

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاتہ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

جواب ملاحظہ فرمائیں

احادیث صحیحہ میں اس تنبیہ کے آپسے کوئی متعین الفاظ مروی نہیں ہیں ، صحیح مسلم میں (۲۷۳۶) میں ابوسعید خدریؓ سے حدیث مروی ہے کہ :’’ان گھروں میں کچھ باسی رہائش پزیر ہوتے ہیں ، پس اگر تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو تین مرتبہ اسے تنبیہ کرو ‘‘ اور ایک روایت میں ہے ’’تو اسے خبردار کرو‘‘۔ اور خبردار کرنے کا مطلب بلند آواز میں خبرد ینا ہے۔  

اور جہاں تک ابوداؤد کی حدیث ( ۵۲۶۰) کا تعلق ہے جو کہ عبدالرحمان بن ابی لیلی عن ابیہ عن رسول اللہ کے طریق سے مروی ہے کہ رسول اللہ سے گھروں میں رہنے والے سانپوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپنے ارشادفرمایا:’’ اگر تم ان میں سے کسی کو اپنے گھروں میں دیکھو تو یہ کہو : میں تمہیں واسطہ دیتا ہوں اس وعدے کا جو تم سے نوح ؑ نے کیا ، میں تمہیں واسطہ دیتا ہوں اس عہد کا جو تم سے سلیمان ؑ نے لیا کہ تم ہمیں تکلیف نہیں پہنچاؤ گے ، پس اگر وہ واپس لوٹیں تو انہیں قتل کردو‘‘ تو یہ حدیث مرسل ہونے کی وجہ سے اہل علم کے نزدیک ضعیف ہے ، محمد بن ابی لیلی نے اس کے روایت کرنے والوں میں سے ایک صاحب کی تضعیف کی ہے ۔ لیکن اگر کوئی کہہ بھی دیتا ہے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ تنبیہ کے معنی پائے جارہے ہیں ۔ لہٰذا اس بناء پر یہ کہا جائے گا کہ ہر وہ لفظ جس سے تنبیہ حاصل ہو اس سے حدیث کا مقصود حاصل ہوجائے گا ۔

امام مالک ؒ سے تنبیہ کرنے کے الفاظ کے بارے میں یہ مروی ہے کہ یہ کہنا ہی کافی ہے : میں تمہیں اللہ اور روزِ قیامت کا واسطہ دے کر تنبیہ کرتا ہوں کہ تم نہ ہمارے سامنے آؤ اور نہ ہمیں تکلیف پہنچاؤ‘‘ ممکن ہے کہ انہوں نے ابو سعید خدریؓ والی حدیث سے ہی یہ الفاظ اخیتار کئے ہوں ۔

 باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔

آپ کا بھائی

أ.د. خالد المصلح

27 / 1 /1429هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں