×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / متفرق فتاوى جات / عورت کا خوشبو لگانا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-03-02 11:20 AM | مناظر:1901
- Aa +

عورت کے خوشبو لگانے کا کیا حکم ہے؟ اگر وہ بہت ہلکا ہواور اس کے گزرنے سے خوشبو محسوس نہ ہو اور صرف اس وقت خوشبو آئے جب وہ کسی کے قریب ہو سلام کرنے کے لئے اور وہ سلام اپنی جیسی عورت کو ہو

تعطر المرأة

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کی توفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

ٓاصل میں عورت کا خوشبو لگانا منع ہے ،جب وہ مردوں کی مجالس میں جائے ۔ جیسا کہ مسلم شریف کی روایت ہے کہ آپ نے ان عورتوں کو خوشبوں لگانے سے منع فرمایا جو مسجد جاتی تھیں اور فرمایا: ’’تم (عورتیں) خوشبو نہ لگاؤ‘‘۔ اور طیب (خوشبو) کا لفظ نکرہ ہے جو نہی کے سیاق میں آیا ہے لہٰذا اس سے مراد ہر خوشبو ہے۔ چاہے وہ تیز خوشبو ہو یا ہلکی۔ اور ایک اور صحیح روایت میں ہے: آپ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ کی بندیوں کو مساجد(جانے) سے نہ روکو ، اور وہ (عورتیں) بغیر خوشبو لگائے نکلے‘‘۔پھر نکلنے میں کسی مرد سے بالکل بچنا بھی مشکل ہوتا ہے اس لئے واجب یہی ہے کہ خوشبو نہ لگائے


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں