×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / متفرق فتاوى جات / القاب مثلا علامۃ یا امام وغیرہ سے نوازنا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-03-02 03:17 PM | مناظر:2447
- Aa +

علماء اور طلباء کو مختلف القاب مثلا علامہ ،محدث یا امام وغیرہ سے پکارنا کیسا ہے؟

إطلاق الألقاب مثل علامة أو إمام

جواب

حامداََومصلیاََ۔۔۔

امابعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

میری رائے تو یہ ہے کہ ان القابات کے معاملے میں ذرا سوچ بچار سے کام لینا چاہییے۔ کیونکہ آج کل کے دور میں یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کے القابات جیسے علامہ،امام اور محدث وغیرہ سے نوازنے میں بڑے اسراف سے کام لیا جا رہا ہے جبکہ اس میں دو طرح کا نقصان ہے۔

پہلا نقصان: تو یہ ہے کہ ان اوصاف والے شخص میں خود پسندی کے دھوکے کا اندیشہ رہتا ہے اور یہ چاہت جنم لیتی ہے کہ مجھے ان القاب سے بلایا جائے۔

دوسرانقصان: یہ ہے کہ ان القاب کے سننے اور بولنے والے کی نظر میں ان کی وقعت ختم ہو جاتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ کسی بھی شخص کو اس سے پکارا جا رہا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ ہمارے استاد شیخ ابن عثیمینؒ ایسے الفاط کے استعمال کے بارے میں بڑی شدت سے کام لیتے تھے کہ یہ انہیں شخصیات کے نام کے ساتھ بولے جائیں جن کو سچائی اورامامت کا پیشوا سمجھا گیا، اگر ان کے سامنے کوئی طالب علم مثلا ـکتاب الکافی کی عبارت کے دوران یہ کہہ دیتا کہ امام ابن قدامہ نے کہا، تو وہ فوراً خبردار کرتے کہ امامت کا مرتبہ صرف اسی شخص کو دیا جاتا ہے جو اس کی اہلیت رکھتا ہو جیسا کہ امام شافعی،امام احمد وغیرہ۔

امام احمد نے مالک بن دینار سے بڑی ہی خوبصورت بات نقل کی ہے، فرماتے ہیں: جب سے مجھے لوگوں کا پتہ چلا ہے میں نہ ان کی تعریف سے خوش ہوا ہوں اور نہ ہی ان ملامت سے پریشان، پوچھا گیا: وہ کیوں؟ کہنے لگے: کیونکہ ان میں سے تعریف کرنے والا افراط سے کام لیتا ہے اور ملامت کرنے والا تفریط سے۔

مروزی نے جب امام احمدؒ سے کہا کہ مجھے امید ہے آپ کا نام پورے عالم کے ملکوں میں لیا جائے گا،  توکہنے لگے: اے ابو بکر! اگر آدمی خود کو پہچان لے تو لوگوں کی باتیں اسے کوئی نفع نہیں دیتیں۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

13/11/1424هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں