×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / متفرق فتاوى جات / مردوں کا عورتوں کو دعوت دینے کے بارے میں تنبیہات

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-03-21 08:48 AM | مناظر:2582
- Aa +

عورتوں کے فتنے سے بچنے کا کیا طریقہ ہے جبکہ ظاھرا تقرب محض دعوت کی وجہ سے ہو، اور اسی طرح ان کا ہمارے قریب ہونا جبکہ ہم جوان ہیں اور فتنے سے بچنا بڑا مشکل ہے؟

محاذير دعوة الرجال للنساء

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

بخاری (۵۰۹۶) اور مسلم (۲۷۴۰) میں اسامہ بن زیدؓ کی حدیث مروی ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ((میں نے اپنے بعد مردوں پر عورتوں سے زیادہ نقصان دہ فتنہ نہیں چھوڑا))۔ تو عورتوں کے فتنے سے بچنے کا بہتریں طریقہ یہ ہے کہ ان سے دور رہا جائے، اور جہاں تک دعوت دینے کی بات ہے تو اگر کوئی عورت ہی اس فریضہ کو سر انجام دے دے تو یہی مطلوب ہے، اگر یہ صورت ممکن نہ ہو تو یہ دعوت کی ذمہ داری کوئی ایسا شخص اٹھائے جو دین میں مضبوط اور فتنہ کے اندیشہ سے دور ہو ، اور اس میں بھی وہ بقدر حاجت بات کرنے پر ہی اکتفاء کرے نہ کے لمبی گفتگو کرے۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

18/12/1424هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں