×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / متفرق فتاوى جات / کیا میرے لئے اس درخت کا کاٹنا جائز ہے؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-03-21 09:00 AM | مناظر:2015
- Aa +

میرے گھر کے قریب ایک پرانا درخت ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتے بڑھتے گھر سے بھی بلند آور ہوگیا ہے اور اب ہر وقت اس کے پتے چھت کے بالائی سطح پر گرتے رہتے ہیں ، اور بسا اوقات تو یہ پتے بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے بنائے ہوئے پرنالہ کو بھی بند کردیتے ہیں ، بلکہ ایک مرتبہ تو خوب موسلادھار بارش برسنے کے بعد جب بارش کا پانی چھت پر جمع ہوا تو چھت گرنے کے قریب ہوگئی تھی اس لئے کہ وہ چھت ذرا سی پرانی ہے ، اور اس دن اگر فضلِ الٰہی شاملِ حال نہ ہوتا تو شاید اس دن چھت گرکر ہم اللہ کو پیارے بھی ہوچکے ہوتے ۔ بہرکیف ! اب اس درخت کے سا تھ میں کیا کروں؟ اس کی مکمل بیخ کنی کرلوں یا پھر اس کی شاخیں وغیرہ تراش لوں؟ لیکن ساتھ یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ یہ درخت حرمِ مکہ میں ہے ۔ ازراہِ کرم جلد از جلد جواب ارسال فرمائیں

هل يجوز لي قطع هذه الشجرة؟

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ

آپ جو مرضی اس درخت کے ساتھ کریں چاہے اس کو جڑ سے اکھاڑ لے یا پھر اس کی شاخیں وغیرہ تراشیں ، اس لئے کہ حرم میں جن درختوں کو کاٹنے کی ممانعت احادیثِ مبارکہ میں وارد ہوئی ہے وہ خود رو درختوں کے بارے میں ہے یعنی وہ درخت جن میں کسی انسان کا عمل دخل نہ ہو۔ یہی جمہور علماء کا مذہب ہے ۔ البتہ جو درخت لوگوں کے کاشت کئے ہوئے ہوں تو پھر وہ ممانعت والے حکم میں داخل نہیں ہیں ۔

آپ کا بھائی

خالد المصلح

26/10/1424هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں