×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / روزه اور رمضان / ایسے شخص کا رمضان میں دن کے وقت جماع کرنا جو سفر کا ارادہ رکھتا ہو

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-03-27 12:35 PM | مناظر:2059
- Aa +

ایسے شخص کا رمضان میں دن کے وقت جماع کرنے کا کیا حکم ہے جو کہ سفر کا ارادہ رکھتا ہو؟

الجماع في نهار رمضان لمن نوى السفر

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اللہ کیتوفیق سے ہم آپ کے سوال کے جواب میں کہتے ہیں:

آدمی کو چاہیئے کہ اپنے دین کے معاملے میں تحمل و تحری سے کام لے اورجلدی میں ایسی حرکات یا ایسے افعال نہ کر بیٹھے جن کی وجہ سے مؤاخذہ کا سامنا کرنا پڑے، سفر سے پہلے جماع کے مسألہ کا تعلق ایک دوسرے مسئلے سے ہے اور وہ یہ کہ: کیا ایسے شخص کیلئے جو کہ رمضان میں کسی دن سفر کرنا چاہتا ہو سفر کیلئے نکلنے سے پہلے رخصت لینے کا جواز ہے؟ جمہور علماء کا کہنا ہے کہ سفر کی رخصتیں ایسا شخص تب ہی لے سکتا ہے جب وہ نکل پڑے، بعض نے یہ کہا جیسا کہ شافعی ؒ اور مالکؒ کا مذہب ہے: کہ اگر وہ روزہ حضر میں ہی یعنی سفر سے پہلے ہی شروع کر چکا ہے پھر اس کے بعد دن کے کسی حصے میں نکلا تو اس پر اس دن کا روزہ پورا کرنا واجب ہے، اگرچہ یہ اس مسألہ میں قول راجح کے خلاف ہے۔

خصوصاََ اس سؤال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جائے گا کہ اگر اس آدمی یا عورت کا یہ فعل اس بنیاد پر تھا کہ کے علم کے مطابق ان کیلئے روزہ نہ رکھنا جائز تھا تو اب ان پر کچھ نہیں اور ان کو چاہئیے کہ احکامات سیکھیں اور صبر سے کام لیں اور آئندہ ایسا نہ کریں، اور اس دن کی قضاء کریں۔

اور اگر ان کا یہ فعل اس کے مباح ہونے یا نہ ہونے کے شک کی بنیاد پر تھا، یا یہ کہ انہوں کے کہا:ہم فی الحال تو اپنی خواہش پوری کر گزریں پھر بعد میں دیکھیں گے کہ کیا حکم ہے تو اس حالت میں وہ دونوں گنہگار ہیں اور اب انہیں توبہ کرنی چاہیئے اور ان پر کفارہ بھی واجب ہے اور کفارہ یہ ہے: غلام آزاد کرنا اور اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو دو مہینے لگاتار روزے رکھنا اور اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں