×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / اصول فقہ / جہالت یعنی لاعلمی کا عذر پیش کرنا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-01 09:51 AM | مناظر:2801
- Aa +

کیا ایسی چیز جو دین میں تو معلوم ہو مگر کسی شخص کو اس کا علم نہ ہو تو اسے ضرورۃََ عذر سمجھا جائے گا؟

العذر بالجهل

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

یہ ان بڑے مسائل میں سے ہے جن میں اہل علم نے بڑی طویل بحثیں کیں ہیں اور اس مسئلہ میں کئی مؤلفات بھی تألیف کی گئی ہیں، مجھے یہ راجح معلوم ہوتا ہے کہ جہالت اصل کے اعتبار سے ایسا عذر ہے جس سے معاقبت ساقط ہو جاتی ہے، اور کتاب اور سنت میں اس کے بہت سے دلائل بھی موجود ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے: ((اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک ہم رسول نہ بھیج دیں)) {الاسراء: ۱۵}، اورفرمایا: "ایسے نبی جو بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہیں تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کی اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے" {النساء: ۱۶۵}، اور اس میں کوئی فرق نہیں اس میں جو ضرورۃََ دین میں معلوم ہے یا نہیں اگر یہ ایسے شخص سے ہو جیسا شخص عام طور پر علم رکھنے والا نہیں ہوتا، اگر معاملہ اس سے بھی زیادہ دور کا ہو تو پھر تو ماجرا ہی اور ہے؛ مطلب یہ کہ کسی کو دین کی ہی ایسی صورت بنا کر دکھائی جائے کہ یہی حق اور سچا دین ہے اور اس کے خلاف جو کچھ بھی ہے وہ گمراہی ، کفر اور جفاء ہے۔

لہذا ایسے امور میں صبر سے کام لینا چاہیے نہ کہ جلدی ہو۔

آپ کا بھائی/

خالد بن عبد الله المصلح

27/03/1425هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں