×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / آداب / لطیفے اور ہنسانے والے قصے سننے سنانے کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-13 08:18 AM | مناظر:2034
- Aa +

لطیفے اور مضحکہ خیز قصے سننے سنانے کا کیا حکم ہے ، ایسے قصے جن میں کوئی ایسا کلام نہ ہو جو شریعت سے متصادم ہو اور نہ ہی کوئی بے حیائی والی بات ہو اور نہ ہی کسی متعین شخص پر جھوٹ باندھنا ہو؟ اور کیا رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث مندرجہ سیاق سے متعلق ہے۔ فرمایا: ہلاکت ہے اس شخص کیلئے جو جھوٹ بول کر لوگوں کو ہنساتا ہے، ہلاکت ہے اس کیلئے ، ہلاکت ہے

حكم النكت والقصص المضحكة

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

اگر اس لطیفے کی کوئی حقیقت نہ ہو، سراسر بناوٹی ہو تو یہ اس وعید میں داخل ہے جس حدیث کے بارے میں آپ نے پوچھا، یہ حدیث صحیح ہے اور نبی نے فرمایا: "جو کوئی بھی اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ یا تو خیر کی بات کہے یا خاموش رہے"


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں