×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / آداب / شادی میں بارات کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-13 11:52 AM | مناظر:2362
- Aa +

شادیوں میں بارات کا حکم کیا ہے؟ تفصیلی وضاحت فرما دیں، اللہ آپکو جزائے خیر دے۔

حكم الزفة في حفلات الأعراس

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

اگر بارات سے مراد آدمی کا اپنی بیوی کے ساتھ باقی عورتوں کے سامنے جانا ہے تو یہ جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں بہت ساری شرعی ممنوعات پائی جاتی ہے، سب سے واضح تو یہ ہے کہ آدمی بن سنور کر تیار ہو کر اجنبی عورتوں کے سامنے جائے گا تو یہ فتنے کا باعث ہو گا، اور یہ مذکورہ حکم بھی اس صورت کے بارے میں بتایا جا رہا ہے جب اس میں مزید خرافات مثلاََ ناچ گانا اور دیگر فضول حرکات خاوند بیوی کا باقی عورتوں کے سامنے ایک دوسرے کا بوسہ لینا وغیرہ ہو، اس میں تو کوئی شک والی بات ہے ہی نہیں کہ شریعت اس طرح کے اعمال کی قطعاََ اجازت نہیں دیتی، واللہ اعلم

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

17/09/1424هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں