×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​زکوٰۃ / دورِ حاضر کے حساب سے سونے کا نصاب

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-16 02:45 PM | مناظر:3077
- Aa +

دورِ حاضر کے حساب سے سونے کے نصاب کی مقدار کتنی ہے ؟

نصاب الذهب بالحساب المعاصر

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

سونے کا نصاب وہی ہے جو حدیثِ مبارکہ میں وارد ہواہے: ’’پانچ اوسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے‘‘۔ اوقیہ کی مقدار بیس مثقال ہوتی ہے ، اور مثقال کی مقدار چار گرام اور سو میں پچیس گرام ہے ، یعنی:چار گرام اور چوتھائی حصہ، یہ اوقیہ کا وزن ہے ۔

اسی طریقہ سے دورِحاضر کے حساب کا اندازہ لگایا گیا ہے ، یعنی: یہ دیکھا گیا کہ اس مثقال کا وزن کتنا ہے جو سونے کے قیاس کا معیار ہے ، تو دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ ایک دینار (جو کہ ایک مثقال ہے) چار گرام اور چوتھائی حصہ کے مقابلہ میں ہے۔

اور نصاب کی مقدار بیس مثقال ہے، جیسا کہ احادیث میں وارد ہوئی ہے ، اور نسائی شریف میں یہ روایت بھی وارد ہوئی ہے: ’’بیس مثقال سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے‘‘، یعنی سونے کے بیس مثقال سے کم میں جو کہ بیس دینار بنتے ہیں۔

اور مقدارِ واجب پچاسی گرام ہے، یہ حساب کے اعتبارسے ہے، اس پر دورِ حاضر کے علماء کا اتفاق ہے ،  بعض علماء اس سے بھی کم حساب لگاتے ہیں ، لہٰذا وہ نصاب کی مقدار کو ستر (۷۰) تک پہنچاتے ہیں لیکن أصح وہی ہے جس پر اکثر علماء ہیں کہ گرام کے اعتبارسے سونے کا نصاب پچاسی گرام ہے


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں