×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / ​زکوٰۃ / ایجارہ کی زکوٰۃ کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-19 01:03 PM | مناظر:1632
- Aa +

میں آٹھ سال کے عرصہ سے ایک ایجارہ کی زمین کا مالک ہوں اور ان آٹھ سالوں میں اجرت کے ریٹ گھٹتے بڑھتے رہے ، اور میں نے ان کی زکوٰۃ ادا نہیں کی ، لیکن کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ میرے پاس بنک میں پورا سال اس میں کچھ باقی بچا ہو، لہٰذا کیا اب مجھ پر اس صورت میں زکوٰۃ واجب ہے ؟

زكاة عائد الإيجار

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

اگر سال پورا ہونے پر آپ کے پاس اس میں سے کچھ بھی باقی نہ بچتا ہو تو پھر آپ اس صورت میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، اس لئے کہ وجوبِ زکوٰۃ کے لئے سال کا گزرنا شرط ہے


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں