×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / شریعت اور سیاست / ہلنے سے حمل ساقط ہونے کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-20 02:19 PM | مناظر:1496
- Aa +

یہاں ایک عورت ہے وہ ایک مرتبہ نیند سے جاگنے کے بعد تھوڑی سی ہلی جس کی وجہ سے اس کے پانچ مہینوں کا حمل ساقط ہوگیا، ڈاکٹر نے بھی اسے یہی سبب بتایا اب اس پر کیا کفارہ آئے گا؟

تمغطت فسقط الجنين فما الحكم؟

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

 بتوفیقِ الٰہی آپ کے سوال کا جواب پیشِ خدمت ہے:

اگر وہ عام روٹین کے اعتبارسے ہلی ہے اور اس کا ارادہ اسقاط حمل کا نہ تھا تو پھر اہل علم کے صحیح قول کے مطابق اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے ، اس لئے کہ ہر عام طور پر کرنے والی حرکت کی وجہ سے اگر حمل ساقط ہوجائے تو پھر عورت پر کچھ نہیں آتا۔ واللہ أعلم

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

04/09/1424هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں