×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / البيوع / کیا کرنسی کے کھولنے میں اسی مجلس میں فورا قبضہ کرنا ضروری ہے؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-24 05:59 PM | مناظر:1908
- Aa +

محترم جناب حضرت السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، کیا کرنسی کے کھولنے میں اسی مجلس میں فورا قبضہ کرنا ضروری ہے ؟ اگر دونوں ایک ہی جنس سے ہو ۔ چاہے نوٹ کے بدلے نوٹ ہو یا نوٹ کے بدلے دھاتی سکہ ہو

هل يجب الحلول والتقابض في فك العملات الورقية؟

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ،

جدید علماء کا ایک ہی جنس کی کرنسی کے کھولنے کے مسئلہ میں اسی مجلس میں  فوری قبضہ کے متعلق تین اقوال ہیں:

   چاہے یہ معاملہ ایک بڑے نوٹ کا چھوٹے نوٹ کے ساتھ بدلنا ہو جیسے کے دس کاایک نوٹ ایک ریال والے دس نوٹوں کے بدلے ہو یا پانچ ریالوں والے دو نوٹوں کے بدلے ہو۔ (یا اسی طرح کے کوئی اور دو نوٹوں کا تبادلہ ہو) یا پھر نوٹ کے بدلے اسکے برابر کے دھاتی سکے ہو۔

۱۔  مجلس میں فورا قبضہ کرنا واجب ہے چاہے نوٹ کے بدلے نوٹ یا سکہ کے بدلے سکہ ہو اور یا پھر نوٹ کے بدلے سکہ ہو۔ اور یہ قول اکثر علماء کا ہے ۔

۲۔  مجلس میں فورا قبضہ کرنا واجب نہیں ہے بلکہ تأجیل کرسکتا ہے ۔

۳۔  مجلس میں فورا قبضہ کرنا بھی واجب نہیں ہے لیکن تاجیل کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ اور یہ شیخ سعدی کا قول ہے ۔

اور ان اقوال میں سے قریب ترین  قول یہ ہے کہ: مجلس میں فورا قبضہ کرنا واجب نہیں ہے لیکن تاجیل کرسکتا ہے ۔اور یہ حکم دونوں حالتوں میں ہے چاہے  ہم یہ کہیں کہ کاغذی کرنسی سونے اور چاندی کے قائم مقام ہے جیسے کہ اکثر حضرات کا قول ہے۔ یا پھر یہ کہ نوٹ (کاغذی کرنسی) کا حکم اموال (پیسوں) کا حکم ہوتا ہے۔ کیونکہ اصطلاحا یہ پیسے ہے۔  جیسے ایک جماعت کا قول ہے ۔کیونکہ یہ  دونوں حالتیں پیسے کھلوانے کے معاملہ میں تاجیل کو منع نہیں کرتے ۔

کیونکہ بہر صورت یہ معاملہ ۔ جبکہ دونوں طرف ایک ہی کرنسی ہو۔ معاوضہ (خرید و فروخت) نہیں بلکہ ایک احسان اور اسانی والا معاملہ ہے ۔

اور عقد مبادلہ (دو چیزوں کا آپس میں بدلنا) کا دو طرفین کے درمیان  واقع ہونا  عقد معاوضہ (خرید و فروخت کا معاملہ) کو لازم نہیں کرتا اگر اس کی نیت نہ کی ہو۔  پس قرض کی تعریف بھی علماء یہی بیان کرتے ہیں کہ ایسے شخص کو مال دینا ہے جو اس سے نفع حاصل کرے اور پھر اسکا بدل واپس کرے۔ اور قرض کے اس معاملہ میں تاجیل پر اتفاق ہے باوجود اسکے کہ یہ بھی مبادلہ کی ایک شکل ہے۔ اور اس وجہ سے ہے کیونکہ معاوضہ کا مقصود نہیں پایا جاتا۔ تو اسی طرح پیسے کھلوانے کا معاملہ ہے چونکہ یہ بھی مبادلہ بطور احسان ہے۔ پس اس پر معاوضات کے احکام لاگو نہیں ہونگے، کیونکہ عقود (معاملات) کا دارومدار انکے مقاصد پر ہوتا ہے۔

اور جہاں تک یہ کہنا ہے کہ یہ معاملہ صَرف کا معاملہ ہے اور اس پر صَرف کے سارے احکامات لاگو ہونگے کیونکہ یہ بھی مبادلہ کی ایک شکل ہے تو اس بات میں لوگوں پر انکے معاملات میں مشقت اور حرج ڈالنا ہے جسکو شریعت نے منع کیا ہے۔ کیونکہ شریعت لوگوں کو انکے ان معاملات سے منع نہیں کرتی جو انکے عام روز مرہ ضرورت کے معاملات ہو۔ لہذا ایسا کوئی معاملہ بغیر کسی واضح شرعی دلیل کے نا جائز نہیں ٹھہرسکتا ۔ جبکہ شرعی دلائل میں کئی جگہ ایسے معاملات کی اجازت ہے جن میں کچھ  تھوڑی بہت حرمت بھی ہے لیکن لوگوں کی  روز مرہ ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے اور ان سے مشقت دورکرنے  کے لیے شریعت نے ان معاملات کی اجازت دی ہے۔ جس طرح کے عرایا (ادھار) اور جعالہ (اجرت) اور اسکےعلاوہ کے مسائل میں اجازت دی ہے۔

اور پیسے کھلوانے والا مسئلہ بھی اسی قبیل میں سے ہے۔ واللہ اعلم

آپ کا بھائی/

أ.د خالد المصلح

29 / 2 / 1435هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں