×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / البيوع / رقم کی تبدیلی میں وکالت (ایجنٹ گری) کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-06-30 03:49 PM | مناظر:1941
- Aa +

اگر کوئی شخص اپنے کسی ساتھی کو رقم دے کر اس سے یہ کہے کہ یہ میرے لئے تبدیل کرا دو اور یہ شخص اس میں تجارت نہیں کرتا، اور جب اس سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ آپ اسے تبدیل کروائیں تو وہ کہتا ہے کہ میں یہ کل آپ کے پاس لے کر آؤں گا، اور پھر وہ اپنے ساتھ وہ مال لے کر آتا ہے جس کی تبدیلی کا اس سے مطالبہ کیا گیا تھا، اب سوال یہ ہے کہ یہ آپ ﷺ کے اس ارشاد گرامی کے تحت تو شامل نہیں ہے: ’’جب سونے کو سونے کے بدلے ، چاندی کو چاندی کے بدلے، آٹے کو آٹے کے بدلے، جَو کو جَو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے، اور نمک کو نمک کے بدلے بیچو تو مثل بہ مثل اور ہاتھ در ہاتھ بیچو ، اور جس نے زیادتی کی یا زیادتی طلب کی تو اس نے سود لیا اور لینے والا اور دینے والا دونوں حکم میں برابر ہیں‘‘، یعنی کیا یہ معاملہ جائز نہیں ہے؟

الوكالة في الصرف

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

یہ مسئلہ دو صورتوں سے خالی نہیں ہے:

پہلی صورت: اگر وہ اپنے ساتھی کو مال دے تا کہ وہ اس کے لئے تبدیل کرا دے تو یہ تبدیلی میں وکیل بنانا ہے اور اس صورت میں مجلس میں قبضہ واجب نہیں ہے۔

دوسری صورت: یہ ہے کہ وہ اس سے رقم کا مطالبہ کرے ، اس صورت میں جدا ہونے سے پہلے قبضہ واجب ہے، جیسا کہ آپ کا فرمان حدیثِ مذکورہ اور اسی طرح اور بھی صحیح احادیث میں آیا ہے کہ (یدا ً بیدِِ) ہاتھ در ہاتھ ہو ، اور کئی اہل علم کی طر ف سے جدا ہونے سے پہلے قبضہ کے وجوب پر اجماع منقول ہے۔ واللہ أعلم

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

03/01/1425هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں