×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / البيوع / ایک سُودی بینک جس کی کوئی اسلامی برانچ ہو

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-07-07 02:24 PM | مناظر:1402
- Aa +

اس مسئلہ میں ہم آپ سے حکم کی وضاحت کے طلبگار ہیں، اور یہ مسئلہ کسی اسلامی بینک میں مال رکھوانے کے متعلق ہے جس میں مال کی سرمایہ کاری پر عقد کی صراحت کردی جاتی ہے جو احکامِ شریعت کے عین مطابق ہوتا ہے، اور پرافٹ غیر متعین ہوتا ہے ، اور یہ پرافٹ متغیر ہوتا ہے ، لیکن اس میں ایک کنفیوژن ہے اور وہ یہ کہ اصل میں یہ بینک سُودی بینکوں کی ایک برانچ ہے بایں طور کہ جب اس بینک والوں نے دیکھا کہ اسلامی بینک روز بہ روز پھیل رہے ہیں تو انہوں نے بھی سوچا کہ اس کی کوئی ایسی برانچ کھولی جائے جس میں اسلامی طریقہ سے لین دین ہو، لہٰذا اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ اس اسلامی بینک کے برانچ میں پیسے رکھوانے کے حکم میں اثر پذیر ہے؟

البنك الربوي الذي له فرع إسلامي

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

معاملات اور لین دین کے حلال ہونے میں صرف اتنا کافی نہیں ہوتا کہ اس کا وصف بیان کرتے ہوئے اتنا کہا جائے کہ یہ احکامِ شریعت کے مطابق ہے، بلکہ اس کی حقیقت اور وصف کو صراحت سے بیان کیا جائے تاکہ مکمل طور پر علم ہو کہ کیا یہ شرعی محرمات سے سالم ہے یا اس میں کوئی ممنوعہ چیز بھی پائی جا رہی ہے ، باقی جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو اس کا جواب اہل علم کے راجح قول کے مطابق یہ ہے کہ ایسے بینک میں اثر پذیر نہیں ہوتا جس کے دوسرے حرام بینکوں سے بھی تعلق ہو ۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

13/11/1424هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں