×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / البيوع / سونے اور کھجور کی بیع و شراء میں فرق

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-07-07 02:36 PM | مناظر:1792
- Aa +

میں سود کے باب میں اس شرعی قاعدے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں جس کے بارے میں آپ فرماتے ہیں: چوہاروں کے بدلے تازہ کھجوروں کی بیع جائز نہیں ہے اور اسی طرح خالص سونے کے بدلے ملاوٹ شدہ سونے کی بیع جائز نہیں ‘‘پس کیا اس کے تحت 18 کیرٹ سونے کے ساتھ 21 کیرٹ سونے کی عدمِ بیع داخل ہے؟

الفرق بين بيع الذهب وبيع التمر

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

وہ اس کے تحت داخل نہیں ہے ، اس لئے کہ سونے کا وزن جتنا بھی مختلف ہو تو اس میں مماثلت واجب ہوتی ہے ، اور یہ وزن کے ذریعہ مماثلت کیساتھ متحقق ہوجاتا ہے، باقی رہی کھجوروں کا مسئلہ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب کھجوریں خشک ہوجاتی ہیں تو وہ کم ہوجاتی ہیں اس لئے جب تک تازہ کھجوریں خشک نہ ہوجائیں تب تک وہ خشک کھجوروں کے بدلے نہ بیچی جائے۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

16/08/1425هـ


آپ چاہیں گے

ملاحظہ شدہ موضوعات

1.

×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں