×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / طھارت / کیا وقت کے نکلنے سے قطروں کی بیماری میں مبتلا شخص کا وضو ٹوٹ جاتا ہے

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

مناظر:2381
- Aa +

سوال

اگر کسی شخص کو پیشاب کے قطروں کی بیماری ہو اور وہ طواف ادا کرنے کے لئے وضو کرے تو کیا وقت کے نکلنے سے اس کے طواف میں کوئی حرج آئے گا؟

هل ينتقض وضوء من به سلس بخروج الوقت؟

جواب

جمہور کے مذہب جس میں احناف شوافع اور حنابلہ شامل ہیں ان کے مذہب کے مطابق ایسا شخص جس کو ہمیشہ حدث لاحق ہوتا ہو تو اس شخص پر ہر نماز کے وقت میں وضو کرناواجب ہے کیونکہ ایک نماز کے وقت کے نکلنے یا دوسری نماز کے وقت کے داخل ہونے پر اس کا وضو ختم ہو جائے گا تو جن کے نزدیک طواف کے لئے طہارت شرط یا واجب ہے ان کے قول کے مطابق طواف ٹھیک نہیں ہوگا ۔ اور جہاں تک میرا خیال ہے تو میرے نزدیک ایسا شخص جس کو ہمیشہ حدث لاحق ہوتا ہو اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا مگر یہ کہ اس کا وضو اس مرض یا اس حدث جس میں وہ مبتلا ہے اس کے علاوہ کسی اور نواقض وضو میں سے کسی حدث کی وجہ سے ٹوٹے اور ایسا شخص میر ے نزدیک طواف کر سکتا ہے اگر چہ وقت نکل بھی جائے یا دوسری نماز کا وقت داخل ہوجائے کیونکہ راجح قول یہی ہے کہ طواف کے ٹھیک ہونے اور اس کے جائز ہونے کے لئے وضو کی شرط نہیں یعنی طواف بغیر وضو کے ٹھیک اور جائز ہے ، واللہ أعلم۔

أ.دخالد المصلح


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں