×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / حج و عمرہ / محرم عورت کا نقاب پہننا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

مناظر:2192
- Aa +

سوال

عورت مردوں کے ہوتے ہوئے جو حجاب چہرے پر ڈالتی ہے وہ تو معروف ہے مگر کچھ حجاب ایسے بھی ہیں جن کے مختلف پردے ہوتے ہیں جیسا کہ نقاب جس میں عورت کو دیکھنے کی سہولت ہوتی ہے ،کیا یہ جائز ہے ؟

لبس النقاب للمحرمة.

جواب

امابعد۔۔۔

اگر ایسا حجاب جس میں عورت کو دیکھنے کے لئے دو سوراخ ہوتے ہیں تو یہ جائز ہے کیونکہ اس میں چہرہ چھپا ہوتا ہے اور نبی اکرم کے زمانے میں بھی عورتیں پہنتی تھیں ۔ اس لئے بخاری کی روایت (۱۷۹۷)میں ابن عمرؓ حضورکی حدیث نقل کرتے ہیں کہ’’ عورت حالتِ احرام میں نقاب نہ کرے ‘‘۔

یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ عورتیں حضور کے زمانے میں نقاب کرتی تھیں جیسا کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ نے مجموع الفتاویٰ (۲۲/۱۱۱) میں ذکر کیا ہے ۔ البتہ جو نقاب بہت وسیع اور کھلا ہو جس میں چہرہ نظر آتا ہو تو اس کا پہننا جائز نہیں اس لئے کہ اس میں بے پردگی ہوتی ہے جس سے فتنہ برپا ہوتا ہے ۔ واللہ أعلم بالصواب۔

خالد المصلح

08 /04/ 1425هـ


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں