×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / حج و عمرہ / نائب حج کے لئے نفقہ

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

مناظر:2361
- Aa +

سوال

نائب حج کے لئے جو نفقہ لیتا ہے کیا اسے رزق کہا جائے گا ؟ حنابلہ اور ان کے علاوہ جو لوگ حج کے لئے رزق لینے کے جواز کے قائل ہیں کیا نفقہ اس معنی میں آئے گا ؟ اور اگر دونوں میں فرق ہے تو کیسا فرق ہے؟ کیاحج کے لئے رزق لینے کا جواز کتاب اللہ سے یا سنتِ رسول سﷺ سے ثابت ہے ؟

نفقة النائب في الحج

جواب

 امابعد۔۔۔

فقہائے احناف نے رزق کی یہ تعریف کی ہے کہ بیت المال سے کسی کے لئے بقدر حاجت و کفایت جو مال مقر کیا جاتاہے اسے رزق کہتے ہیں ، لہٰذا نائب ( جس کے بارے میں پوچھا گیا ہے) اگر وہ حکومت کا ملازم ہو اور وہ جو تنخواہ بیت المال سے لیتا ہے وہ رزق کہلائے گا ۔ جبکہ حج کے لئے رزق لینا حنابلہ کے نزدیک اس کو اپنی ذات کے لئے بطور ِ حج بیت المال سے رزق نہیں لینا چاہے ۔

اس لئے کہ یہ اس میں سے ہے جس کا نفع متعدی نہیں ہوتا اور بعض نے اس کے جواز کا کہا ہے۔ واللہ أعلم بالصواب۔

أ.د خالد المصلح

29/ 03/ 1425هـ


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں