×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / نماز / جمعہ کا خطبہ اور اس سے پہلے درس دینا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-09-23 06:02 PM | مناظر:3967
- Aa +

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

اما بعد۔

جنابِ من! جس مسجد میں ہم نماز پڑھتے ہیں اس میں ایک نئی چیز رُونما ہوئی ہے ، اور یہ کہ اذانِ جمعہ سے قبل امامِ مسجد پہلے ایک لمبا درس دیتا ہے اور اذان کے بعد پھر اس نے پہلا خطبہ شروع کیا، اور اس خطبہ میں اس نے چار پانچ منٹ پر اکتفاء کیا، پھر دوسرا خطبہ تین چار منٹ میں دیا، اور اس میں اس نے اس بات کا سہارا لیا ہے کہ خطبہ نماز سے لمبا نہیں ہونا چاہئے ، لہٰذا آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟ اور اگر ایسا کرنا جائز نہیں ہے تو پھرہم کیا کریں ؟ کیا ہم اس صورت میں اس پر اعتراض کریں یا اس مسجد کو چھوڑ کر اپنی قریب والی مسجد میں جا یا کریں؟

خطبة الجمعة والدرس قبلها

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

حامدا و مصلیا

امابعد۔

یہ بات درست نہیں ہے ، لگتا ہے امام صاحب کو آپ کے اس قول سے وہم ہوگیا ہے جس کوامام مسلمؒ نے (۸۶۹) میں حضرت عمارؓ سے نقل کیا ہے کہ :’’آدمی کی نماز کا لمبا ہونا اور اس کے خطبے کا چھوٹا ہوناا س کے فقیہ ہونے کی علامت ہے ، لہٰذا نماز کو لمبا کرکے پڑھا کرو اور خطبہ چھوٹا کیا کرو‘‘۔اور اس حدیث میں اس نسبت پر کوئی دلیل نہیں ہے ، بلکہ اس حدیث میں تو صرف خطبہ کے مختصرکرنے اور نماز کے لمبا کرنے کی ترغیب ہے ، اور قصرِ مشروع وہ قصر ہے جو مقصود (یعنی خطبہ اور وعظ و نصیحت ) میں خلل پذیر نہیں ہوتا۔

اور رہی بات خطبہ سے پہلے درس دینے کی تو مجھے تو اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ کہیں تیسرا خطبہ نہ ہو، اس لئے کہ یہ نہ تو سرکارِ دوعالمسے ثابت ہے اور نہ ہی ا ن کے جاں سپار صحابہ ؓ سے ۔کیونکہ اس میں نماز سے پہلے حلقہ بنا کر بیٹھنے کا بھی ایک اندیشہ ہے اور اس سے روکا گیاہے اور یہ نہی اس حدیث میں وارد ہوئی ہے جس کو امام ابوداؤد ؒ نے (۱۰۷۹) میں اور امام نسائیؒ نے (۷۰۴)میں حضرت عمروبن شعیب اور انہوں نے اپنے والدِ ماجد سے نقل کی ہے کہ : ’’آپنے جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقہ بنانے سے منع فرمایا ہے ‘‘۔اور اہلِ علم نے اس نہی کی علت یہ ذکر کی ہے کہ اس طرح علم و مذاکرہ کے لئے جمع ہونے سے نماز اور اس کی تیاری سے غفلت پیدا ہوتی ہے ، باقی میں آ پ کو امامِ مسجد کی وعظ و نصیحت پر حرص کی وصیت کرتا ہوں ، کہ وجہِ صواب کا بیان اسی میں ہے ۔ واللہ أعلم بالصواب۔

آپ کا بھائی

أ.د.خالد المصلح

20/ 9 /1427 هـ


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں