×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / نماز / امام کی نماز نقل کرنے کے لئے عورتوں کی نمازگاہ میں سکرین رکھنے کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں Print Facebook Twitter AddThis

تاریخ شائع کریں:2016-09-23 06:08 PM | مناظر:708
- Aa +

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

اما بعد۔

جنابِ من! امام کی نماز پیش کرنے کے لئے عورتوں کی نماز گاہ میں ان کے سامنے معلّقہ سکرین کا کیا حکم ہے ، جن میں عورتیں امامِ مسجد اورباقی نمازیوں کو ایسی دیکھتی ہیں کہ گویا وہ بھی ان سب کے ساتھ ہیں ، اوراس بارے میں آپ کااپنا کیا نظریہ ہے؟

حكم وضع شاشات في مصلى النساء لنقل صلاة الإمام

 

جواب

حامدا و مصلیا

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

امابعد۔

اس میں ان عورتوں کے لئے نماز سے غفلت ہے ، خاص طور پر جب وہ سکرین ایسی بلند جگہ پر ہوں کہ نظریں ان کی طرف اٹھتی ہوں ، اور اس کے بارے میں نہی وارد ہوئی ہے ، جیسا کہ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایاکہ:  ’’لوگوں کو نماز میں دعا کے وقت آسمان کی نظر اٹھانے سے رکنا چاہئے ورنہ ا ن کی آنکھیں اچک لی جائیں گی‘‘ (أخرجہ مسلم: ۴۲۹) لیکن متبابعت میں آواز سننے پر اکتفاء کر سکتی ہیں ، کہ اس طرح کی چیزوں کو ضرورت کے تحت رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ واللہ أعلم بالصواب۔

آپ کا بھائی

أ.د.خالد المصلح

15 /10 /1427هـ


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں