×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / نماز / نمازِ عصر کے ساتھ نمازِ جمعہ کا جمع کرنا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-01-10 06:16 PM | مناظر:2602
- Aa +

سوال

ہم کینڈا میں رہتے ہیں ہمارے امام ِ مسجد نے نمازِ جمعہ کو نمازِ عصر کے ساتھ جمع کی کیا نمازِ جمعہ کے ساتھ نمازِ عصر کا جمع کرنا جائز ہے ؟ (۱) (۲) اور اگر جائز نہیں ہے تو کیا ان پر ان نمازِ عصر کا اعادہ واجب ہے ؟

جمع العصر إلى الجمعة

جواب

جمور علماء کا یہی مذہب ہے کہ نمازِ عصر کے ساتھ نمازِ جمعہ کا جمع کرنا جائز نہیں ہے اس لئے کہ حدیث میں اس بارے میں کچھ بھی وارد نہیں ہوا اور اس لئے بھی کہ اصل تو عبادات میں تب تک توقف اختیار کرنا ہے جب تک اس میں کوئی دلیلِ شرعی ثابت نہ ہوجائے ، اورنمازِ ظہر پر قیاس کے ذریعہ اس کے جواز کے اثبا ت میں کوئی ضرورت نہیں ، اس لئے کہ نمازِ ظہر صفت ، احکام اور شروط میں نمازِ جمعہ سے مختلف ہے ۔ اسی بناء پر جمعہ اور ظہر کو جمع کرنا میرے خیال میں جائز نہیں ہے ۔

باقی جو آپ نے پوچھا کہ آپ کی مسجد میں یہ جمع کا واقعہ ہوا تو یہ خلاف صواب ہے جیسا کہ پیچھے گزرچکالیکن میرے خیال میں اعادہ ضروری نہیں اس لئے کہ شافعی فقہاء جمعہ اور عصر کے جمع کو جائز سمجھتے ہیں جیسا کہ پیچھے گزرچکا لیکن مستقبل میں اس سے منع  کیا جائے گا اور اگر احتیاطاََ اس کا اعادہ کرلے تو یہ بہتر ہے ۔

آپ کا بھائی

خالد بن عبد الله المصلح

06/09/1424هـ


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں