×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / متفرق فتاوى جات / بیمار کو اس کے سنگین مرض سے آگاہ نہ کرنے کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

مناظر:1552
- Aa +

سوال

جناب من خالد المصلح صاحب السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔ سلامِ مسنون کے بعد آپ کی خدمت میں یہ عرض کی جاتی ہے کہ بیمار کو اس کی برادری کے مطالبہ پر اس سے بیماری چھپانے کا کیا حکم ہے؟

حكم كتمان وعدم إخبار المريض بخطورة مرضه

جواب

اما بعد۔۔۔

آپ کے اطلاع کے لئے یہ عرض کی جاتی ہے کہ بیمار کو لاحق شدہ سنگین بیماری کا حکم بیماروں کے اختلافِ احوال کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے، اس لئے بیمار کو اس کی سنگین بیماری سے باخبر کرنے کے لئے ڈاکٹرکو یا جو بھی اس خبردار کرنے کی ذمہ داری لے تاکہ بیمار کو بتانے کے فوائد اور نقصانات کے درمیان موازنہ کرے۔ اور ان سب میں یہ موازنہ ممکن ہے کہ درجہ ذیل احوال پر آ کر رک جائے:۔

پہلی حالت:  یہ ہو کہ بیمار کو اس کے خطرناک بیماری سے خبردار کرنے کے فوائد اس کے نقصانات زیادہ ہوں،  جیسا کہ اگر اس بیمار کو اس کی بیماری کے بارے میں بتایا جائے تو وہ علاج و معالجہ کی طرف پیش قدمی کر کے دار و درمل وغیرہ کا انتطام و بندوبست کرے، اگر یہ صورت بنتی ہو تو پھر اسے بتانا چاہئے لیکن یہ بات مدِّ نظر رہے کہ اس خبردار کرنے میں بھی ایسا مناسب اسلوب و طریقہ اختیار کرنا چاہئے کہ وہ طریقہ مریض سے صدمے کا اثر ہلکا کر دے، اور اسے جینے کہ آس دلائے اس لئے کہ زندگی و موت صحت و بیماری سے منسلک نہیں ہوتے ۔ اس لئے بیمار کی بیمار پُرسی کے معاملہ میں یہی مشروع ہے کہ اسے صحت و سلامتی کی آس و امید دلائی جائے، اس بات پر سنن میں حضرت ابو سعیدؓ کی حدیث بھی شاہد ہے کہ آنحضرتنے ارشاد فرمایا:  ’’جب تم کسی بیمار کے پاس جاؤ تو اسے جینے کی آس دلاؤ ،  اس لئے کہ یہ کسی چیز کو واپس تو نہیں لوٹا سکتی لیکن اس سے مریض کی ڈھارس بندھ جاتی ہے‘‘۔  یعنی مریض کو زندگی کی امید دلاؤ کہ اس طرح کرنے سے اس کی تکلیف دور ہو جاتی ہے اور اسے ایک قسم کا اطمینان خاطر نصیب ہو جاتا ہے۔

دوسری حالت :  یہ ہو کہ بیمار کو اس کے خطرناک بیماری سے خبردار کرنے کے نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ ہوں، جیسا کہ اگر اس بیمار کو اس کی بیماری کے بارے میں بتایا جائے تو اس کی بیماری مزید شدت اختیار کر جائے گی، یا اس کی بیماری واپس لوٹ آئے گی، یا وہ مایوس و نراش ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ تو ایسی صورت میں بیمار کو اس کے بیماری کے بارے میں نہیں بتانا چاہئے اس لئے کہ ایسا کرنا اسے اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی سے اور اس کی رحمت سے مایوسی میں مبتلا کردے گی جو کہ حرام ہے، اور اس بات کی تایئد اس سے بھی ہوتی ہے کہ شریعت کی بنیاد ضرر کو دور کرنے پر مبنی ہے اور اس حالت میں مریض کو اس کی بیماری کے بارے میں نہ بتانے کا ضرر اور اس کے نقصانات اس کو خبردار کرنے کے ضرر سے کم ہیں اور یہ بات تو سب پر آشکارا ہے کہ جب مفاسد و مضرات کا آپس میں ٹکراؤ ہوتا ہے تو پھر ان میں جو سب سے کم درجہ کا ضرر ہوتا ہے اسے اختیار کر لیا جاتا ہے۔

اس پر یہ واقعہ بھی شاہد ہے کہ آپنے ایک مریض کی بیمار پُرسی فرمائی تو اس سے ارشاد فرمایا: ’’کوئی بات نہیں، انشاء اللہ یہ بیماری تمہیں گناہوں سے پاک کردے گی‘‘ تو اس آدمی نے کہا: کہ گناہوں سے پاک کردے گی ؟  ہر گز نہیں، بلکہ یہ تو اتنا تیز بخار ہے کہ بوڑھے آدمی کو قبر کی زیارت کرا دیتا ہے،  تو آپنے اس کی بات کو ناپسند کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’اگر تم کہتے ہو تو پھر ایسا ہی ہو‘‘۔

ہمارے شیخ عبد العزیز بن باز کی صدارت میں علم و افتاء کے ایک تحقیقی مستقل کمیٹی نے یہ فتوی دیا ہے کہ اگر مریض حقیقتِ حال کا تحمل و برداشت نہیں کر سکتا تو پھر اس کی صحت کے بارے میں اس سے جھوٹ بولنا جائز ہے۔ یہ صرف مریض سے مرض چھپانے اور اس کو نہ بتانے کے بارے میں ایک امر زائد ہے فتوی نمبر (۶۹۰۸) میں آیا ہے کہ : ’’اگر جھوٹ بولنے سے خود مریض کو اور کسی اور کو ضرر نہ ہو تو پھر (اس کی صحت کے بارے میں) اس سے جھوٹ بولنا جائز ہے، اور اگر یہ ممکن ہو کہ ڈاکٹر یا لیڈی ڈاکٹر صریح جھوٹ کے علاوہ کوئی توریہ استعمال کریں تو یہ زیادہ مناسب ہے۔

تیسری حالت:  یہ ہو کہ مریض کو اس کے سنگین مرض سے خبردار کرنے کے فوائد و نقصانات دونوں برابر ہوں، اگر یہ صورتِ حال ہو تو پھر مریض کو نہیں بتانا چاہئے اس لئے کہ نفع کو حاصل کرنے کے بجائے ضرر کو دور کرنا زیادہ أولیٰ و أنفع ہے، اور وضاحت کے بجائے اشارہ و کنایہ پر اکتفا کرلے، اس لئے کہ اس طرح کرنے سے مریض کی تکلیف بھی دور ہو جاتی ہے اور اسے اطمینانِ خاطر بھی نصیب ہو جاتا ہے۔

چوتھی حالت:  یہ ہو کہ ڈاکٹر کو خود پتہ نہ چل رہا ہو اور وہ بتانے اور نہ بتانے کے فوائد و نقصانات کا موازنہ نہ کرسکتا ہو، تو ایسی صورت میں ڈاکٹر اپنی مقدور بھر کوشش اور اپنے اجتھاد سے مریض کے مصالح کے لئے جو چیز بہتر دیکھے اسے اختیار کرے۔

اور ان تمام حالات میں جس چیز کی رعایت رکھنی چاہئے وہ مریض کے ساتھ نرمی والا معاملہ کرنا، اور مریض کو مرض سے آگاہ نہ کرنے سے آگاہ کرنے میں تحمل و بردباری سے کام لے، اور مریض کے لئے جو چیز فائدہ مند ہو اور جس سے اس کے دل کو اطمینان پہنچتا ہو اس کے بارے میں مریض کے اہل و عیال سے مناسب حال میں مشورہ لینا، لہٰذا آپ سے یہ بات مخفی نہ رہے کہ مریض کے مرض کم کرنے میں اس کی اندرونی صحت کا اہم کردار ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ تمام مسلمان بیماروں کو صحتیابی نصیب فرمائے، اور انہیں صبر و یقین عطا فرمائے، اور آپ کی معاونت کر کے آپ کو سیدھی راہ دکھائے اور دنیا بھر کی تمام خیریں آپ کے قدموں میں ڈھیر کر دیں۔  (آمین) ۔

آپ کا بھائی

أ.د خالد المصلح

 14 ربيع الآخر 1438


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں