×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / متفرق فتاوى جات / عورت کا مرد ڈاکٹر سے علاج کروانا جبکہ زنانہ ڈاکٹر موجود بھی ہو اور اس کے برعکس صورت کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

مناظر:1794
- Aa +

سوال

محترم جناب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔۔۔ لڑکی کا ہسپتال جانے اور مرد ڈاکٹر سے وقت لینے کا کیا حکم ہے؟ جبکہ وہ لیڈی ڈاکٹر سے اس کے موجود ہونے کا باوجود وقت نہیں لیتی تو کیا اس صورت میں یہ گناہ گار ہوگی؟

حكم علاج المرأة عند طبيب مع وجود طبيبة والعكس

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اصل تو یہ ہے کہ انسان کو اپنا ستر چھپانے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کو بغیر حاجت کے ظاہرکرنا بالکل جائز نہیں اور ظاہر بھی بقدرِ حاجت ہی کرے گا۔ اور علماء کے نزدیک اصول یہ ہے کہ اپنی ہی جنس کے سامنے ستر کھولنا زیادہ اخف ہے اس سے کہ مختلف جنس کے سامنے کھولا جائے، لہٰذا اگر اس لڑکی کو لیڈی ڈاکٹر میسر ہو تو اس کے لئے مرد سے علاج کروانا جائز نہیں اور یہی حکم ہر مرد کے لئے بھی ہے کہ اگر اسے مرد طبیب میسر ہو تو عورت کے سامنے ستر کھولنے کی اجازت نہیں۔

آپ کا بھائی

 د. خالد المصلح


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں