×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / روزه اور رمضان / اعتکاف معمولی سےنکلنےسے بھی ٹوٹ جاتا ہے؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-02-24 07:57 PM | مناظر:708
- Aa +

سوال

اعتکاف معمولی سے نکلنےسے بھی ٹوٹ جاتا ہے؟

هل الخروج اليسيرمن المسجد يقطع الاعتكاف

جواب

حامداََ و مصلیاََ۔۔۔

اما بعد۔۔۔

اصل میں اعتکاف کے دوران مسجد میں رہنا لازمی ہے الا یہ کہ کوئی ضروری حاجت پیش آجائے۔ لیکن اگر کسی ایسے کام کے لئے نکلے جس کی حاجت نہ ہو مثال کے طور پر باہر گھومنے کے لئے نکلے تو پھر اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔

 لہذا بلاضرورت نکلنے سے اعتکاف فاسد ہوجائے گاالبتہ اگرکسی شرعی یا طبعی حاجت کےلئےمسجد سے باہرنکلتاہوپھر اعتکاف پرکوئی اثرنہیں پڑتا،جیسےغسل ،کھانےاورقضائے حاجت کےلئے باہر نکلنا ان تمام صورتوں میں باہر خواہ وقت زیادہ گزرے یا کم، اعتکاف کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتالیکن پھر بھی زیادہ وقت گزارنامناسب نہیں مثلاکوئی اگر غسل کرنے نکلا ہے تواسکےلئے مناسب نہیں کہ وہاں لیٹ جائے کیونکہ اس کوتو ضرورت کی وجہ سے اجازت دی گئی ہے اورعبادت کےتقاضوں کی مکمل پابندی کرنی چاہئےاوراعتکاف تو ایک مسنون عمل ہے اورجب اس کے تقاضوں کوپورانہیں کرسکتا تو اس مشقت کوبرداشت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں