×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / روزه اور رمضان / غالب گمان کی بنیاد پر افطار کرنا

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

مناظر:2720
- Aa +

سوال

افطار کے وقت میں ایک بہت ہی تنگ رہائشی علاقے میں تھا اور میری العصر کی گھڑی یہ بتا رہی تھی کہ جس جگہ میں ہوں یہاں پانچ بج کر دو منٹ پر اذان ہوتی ہے تو جب پانچ بج کر چھ منٹ ہوئے اور میں نے اذان نہیں سنی تو میں نے روزہ افطار کر لیا، جب میرے روزہ کھولنے کے بعد ایک منٹ گزرا تو مؤذن نے اذان دی، تو کیا اس صورت میں میں گنہگار ہوں گا؟ اور کیا اس روزے کی قضاء واجب ہے؟

الإفطار بغلبة الظن

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

اگر آپ نے اس بنیاد پر افطار کیا کہ مغرب کا وقت داخل ہو چکا ہے تو آپ پر کوئی قضاء نہیں ہے، جبکہ خاص طور پر آپ نے اس پر اعتماد کیا جس پر مؤذن لوگ اعتماد کرتے ہیں ،لہذا آپ کا روزہ ٹھیک ہے۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

08/10/1424هـ


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں