×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / روزه اور رمضان / حائضہ عورت کے قضاء روزوں کا حکم

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

مناظر:2282
- Aa +

سوال

میری عمر گیارہ سال ہے اور مجھے ماہواری رمضان کی ابتداء میں ہی آگئی اور میں نے لا علمی کی وجہ سے اس مہینے کے روزے نہیں رکھے اور نہ ہی اپنے گھر والوں کو بتایا، اور اب میرے بچے بھی ہیں ایک بیٹا کچھ مہینے کا ہے جس کو میں دودھ پلاتی ہوں، تو کیا میں اب اس مہینے کی قضاء کروں ؟

جزاکم اللہ مسألة في قضاء الحائض للصيام

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

بتوفیقِ الہٰی آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

جی ہاں، اگلے رمضان کے آنے سے پہلے اس مہینے کی قضاء واجب ہے لیکن آپ پر یہ واجب نہیں کہ پے در پے روزے رکھیں ، ممکن ہے کہ ایک روزہ رکھیں اور ایک چھوڑ دیں یا ایک روزہ رکھ کر دو روزے چھوڑ دیں یا اس سے بھی زیادہ یہاں تک کہ مہینے پورا ہو جائے، واللہ اعلم


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں