×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / طلاق / طلاق رجعی

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

تاریخ شائع کریں:2017-05-01 07:41 AM | مناظر:1462
- Aa +

سوال

طلاق رجعی کا کیا حکم ہے؟ جوان عورت جسے حیض آتا ہے اور وہ بوڑھی عورت جسے حیض نہیں آتا ان کیلئے عدت کی مدت کتنی ہے؟ اور شوہو کیلئے رجوع کرنے کی کیا صورت ہو گی؟ اور کیا رجوع کرتے وقت دو گواہ ایک ہی مجلس میں ہونے کی شرط بھی ہے؟

الطلاق الرجعي

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

طلاق رجعی کی صورت میں شوہر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوران عدت بیوی سے بغیر نئے نکاح کے اور بغیر عدت کے رجوع کر سکتا ہے اور بیوی کی رضامندی بھی ضروری نہیں ہے اگر رجوع کرنے سے اس کا ارادہ خیر اور صلح کا ہو۔

اور جس عورت کو حیض آتا ہے اس کی عدت تین حیض ہے اور جسے حیض نہیں آتا اسکی عدت تین مہینے ہے۔

اور رجوع کرنے کی صورت یہ ہے کہ وہ یہ کہے: میں اپنی فلاں بیوی سے رجوع کرتا ہوں اور اس پر گواہ بنا دے اور دو گواہوں کا ایک ہی مجلس میں اکٹھے ہونا مشروط نہیں ہے ، اگر پہلے ایک شخص کو گواہ بنا دیا پھر اس کے بعد دوسرے کو گواہ بنا دیا تو شہادت حاصل ہو جائے گی۔

آپ کا بھائی/

خالد المصلح

17/01/1425هـ


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں