×
العربية english francais русский Deutsch فارسى اندونيسي اردو

خدا کی سلام، رحمت اور برکتیں.

پیارے اراکین! آج فتوے حاصل کرنے کے قورم مکمل ہو چکا ہے.

کل، خدا تعجب، 6 بجے، نئے فتوے موصول ہوں گے.

آپ فاٹاوا سیکشن تلاش کرسکتے ہیں جو آپ جواب دینا چاہتے ہیں یا براہ راست رابطہ کریں

شیخ ڈاکٹر خالد الاسلام پر اس نمبر پر 00966505147004

10 بجے سے 1 بجے

خدا آپ کو برکت دیتا ہے

فتاوی جات / اصول فقہ / مجھے یہ شرعی قاعدہ کہاں ملے گا؟

اس پیراگراف کا اشتراک کریں WhatsApp Messenger LinkedIn Facebook Twitter Pinterest AddThis

مناظر:1585
- Aa +

سوال

مجھے آپ کی راہنمائی چاہئیے اس قاعدہ کے مرجع کی تلاش میں کہ آداب شرعیہ کی مخالفت کراہت لازم کرتی ہے نہ کہ تحریم، اور کیا اس قاعدہ میں داڑھی کو رنگ لگانا اور چہرے کے بال صاف کروانا بھی آتا ہے؟

أين أجد هذه القاعدة الشرعية؟

جواب

حمد و ثناء کے بعد۔۔۔

اہل علم میں سے متعدد حضرات نے اس قاعدہ کو ذکر کیا ہے، جیسا کہ ابن عبد البر نے تمہید {۱/۱۴۲} میں اور ابن رجب ؒ نے جامع العلوم والحکم میں اس حدیث کی شرح کے دوران ((اللہ تعالی نے بعض فرائض فرض کئے ہیں)) {۱/۲۸۰}، اور اسی طرح حافظ ابن حجر ؒ نے فتح الباری {۱/۲۵۳} میں بھی ذکر کیا ہے۔

اور جہاں تک نمص یعنی چہرے سے بھنووں وغیرہ کے بال اتارنے کا تعلق ہے تو وہ بے شک اس میں داخل نہیں کیونکہ ایسا کرنے والا ملعون ہے، اس حکم کو کراہت پر محمول نہیں کیا جا سکتا، واللہ اعلم۔

آپ کا بھائی/

خالد بن عبد الله المصلح

11/06/1425هـ


ملاحظہ شدہ موضوعات

1.
×

کیا آپ واقعی ان اشیاء کو حذف کرنا چاہتے ہیں جو آپ نے ملاحظہ کیا ہے؟

ہاں، حذف کریں